ہیڈ لائنز

ایران کے خلاف کھلا محاذ، اسرائیلی فوج کو بغیر اجازت کارروائی کا حکم

 






 
اسرائیل کا ایران و حزب اللہ قیادت کے خلاف کھلا آپریشن، فوج کو براہ راست کارروائی کا اختیار  
نیتن یاہو حکومت کی نئی پالیسی، انٹیلی جنس بنیاد پر فوری حملوں کی اجازت، خطے میں کشیدگی نئی سطح پر پہنچ گئی

بدھ، 18 مارچ 2026
رپورٹ: جستجو نیوز

اسرائیل نے ایران اور حزب اللہ کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے اپنی فوج کو غیر معمولی اختیارات دے دیے ہیں، جس کے تحت اب انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر فوری کارروائی کی جا سکے گی۔ اس فیصلے نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید شدت اختیار کرا دی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے فوج کو ہدایت جاری کی ہے کہ جہاں بھی معتبر انٹیلی جنس دستیاب ہو، وہاں کسی اضافی سیاسی یا عسکری منظوری کے بغیر فوری طور پر ایرانی یا حزب اللہ سے وابستہ اعلیٰ شخصیات کو نشانہ بنایا جائے۔

ٹی وی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق اس نئی پالیسی کے تحت فوج کو روایتی منظوری کے مراحل کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا، جس کا مقصد جاری فوجی مہم کے دوران آپریشنل تاخیر کو ختم کرنا اور مواقع سے فوری فائدہ اٹھانا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حالیہ حملوں میں ایران کی اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں سکیورٹی ڈھانچے سے وابستہ اعلیٰ عہدیداران بھی شامل بتائے جا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے مختلف شہروں، خصوصاً شیراز میں ہونے والی کارروائیوں میں بسیج فورس کے متعدد کمانڈرز اور اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں بھی ان اہداف کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حکمت عملی خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے اور کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ایران اور اس کے اتحادی حلقوں کی جانب سے اس پالیسی کو کھلی جارحیت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نیتن یاہو ماضی میں یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کا مقصد ایسے حالات پیدا کرنا ہے جو داخلی سطح پر سیاسی تبدیلی کا باعث بن سکیں۔

عالمی سفارتی حلقے اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اقدامات خطے کو ایک وسیع اور غیر متوقع تنازع کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔

 




0 Comments

Type and hit Enter to search

Close