ہیڈ لائنز

ایران کا دعویٰ امریکی فوجیوں کی گرفتاری، امریکا نے فوری طور پر مسترد کر دیا

 




ایران نے جنگ کے دوران امریکی فوجیوں کے قیدی بننے کا دعویٰ کیا، امریکا نے اسے جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دیا 

جستجو نیوز
اتوار 8 مارچ 2026
 

واشنگٹن
امریکی ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایرانی فورسز نے جنگ کے دوران چند امریکی فوجیوں کو قیدی بنا لیا ہے۔

ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ متعدد امریکی فوجی ایرانی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہو چکے ہیں اور امریکا ان گرفتاریوں کو چھپانے کے لیے انہیں ہلاکتیں ظاہر کر رہا ہے۔

امریکا کا ردعمل!
امریکی بحریہ کے کیپٹن ٹم ہاکنز نے فوری طور پر اس دعوے کو جھوٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دیا اور کہا کہ ایرانی حکومت دنیا کو دھوکہ دینے کے لیے اس قسم کے بیانات جاری کر رہی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے ترجمان نے بھی کہا کہ ایران کے دعوے میں کوئی حقیقت نہیں اور یہ مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔

خطے کی کشیدگی اور فوجی پس منظر!
یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا ہے جب 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی شروع ہوئی، جسے امریکی حکومت نے آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا۔ امریکا کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد کم از کم چھ امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر یکم مارچ کو کویت کی بندرگاہ پر ایرانی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

دوسری جانب ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق جنگ کے دوران اب تک تقریباً 1332 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد شہریوں کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوب مشرقی شہر میناب میں ایک اسکول پر حملے میں تقریباً 180 بچے بھی جاں بحق ہوئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی اور کہا کہ دستیاب معلومات کے مطابق یہ حملہ ایران کی جانب سے کیا گیا۔

امریکا کی پوزیشن اور جنگ کی مدت!
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا کو اس جنگ میں برتری حاصل ہے اور پیش رفت بہتر انداز میں ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ جنگ چار سے پانچ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔

امریکی عوام اور داخلی مخالفت!
تاہم امریکا میں اس جنگ پر اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ متعدد سیاسی اور میڈیا شخصیات نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ ایک طویل اور مہنگی جنگ ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق امریکی عوام کی اکثریت اس جنگ کی مخالفت کر رہی ہے اور اسے غیر ضروری قرار دے رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازعہ عالمی سطح پر سیاسی اور عسکری توازن پر اثر ڈال سکتا ہے اور اس کا اثر مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی نمایاں ہوگا۔

 

  


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close