پی ایم ڈی سی کی جانب سے اخلاقیات اور مریضوں کے تحفظ کیلئے تاریخی اصلاحات کا نفاذ
نظرِ ثانی شدہ ضابطۂ اخلاق فوری طور پر نافذ، معذور
افراد کیلئے جامع رہنما اصول اور احتسابی نظام متعارف
کراچی، پیر، 2 مارچ 2026 — جستجو نیوز
مریضوں کے تحفظ اور پیشہ ورانہ احتساب کے فروغ کی جانب ایک اہم
پیش رفت کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ملک بھر کے تمام رجسٹرڈ
میڈیکل اینڈ ڈینٹل پریکٹیشنرز اور تسلیم شدہ اداروں کیلئے جامع نظرِ ثانی شدہ
ضابطۂ اخلاق کی باقاعدہ منظوری اور فوری نفاذ کا اعلان کر دیا ہے۔
دو سالہ تفصیلی جائزے کے بعد کونسل کی توثیق سے منظور ہونے والی
اس دستاویز کو طبی شعبے میں اخلاقی نظم و نسق کے استحکام، شفافیت کے فروغ اور
عوامی اعتماد کے تحفظ کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر پی ایم ڈی سی، پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج کی قیادت میں ضابطۂ
اخلاق کا ازسرِنو جائزہ لیا گیا تاکہ عصری طبی تقاضوں کو مدنظر رکھا جا سکے،
ریگولیٹری خلا کو پُر کیا جا سکے اور قومی معیارات کو بدلتے ہوئے قانونی و پیشہ
ورانہ فریم ورک سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ اپنے بیان میں انہوں نے زور دیا کہ
اخلاقی اصولوں کی پابندی محفوظ اور معیاری صحت کی فراہمی کی بنیاد اور طبی پیشے پر
عوامی اعتماد کا بنیادی ستون ہے۔
نظرِ ثانی شدہ ضابطے میں مریضوں کی حفاظت، وقار، رازداری اور
باخبر رضامندی کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، جبکہ کلینیکل پریکٹس، تحقیق، تدریس اور
پیشہ ورانہ طرزِ عمل میں احتساب کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ نئے فریم ورک کے تحت
تادیبی نگرانی کو مضبوط کیا گیا ہے، امتیازی سلوک کے خاتمے اور مساوی علاج کی
ضمانت دی گئی ہے اور مفادات کے ٹکراؤ کے مؤثر انتظام کیلئے واضح رہنمائی فراہم کی
گئی ہے۔
صدر پی ایم ڈی سی کے مطابق کونسل کی اولین ترجیح مریضوں کا
تحفظ ہے، جو صرف باصلاحیت، اخلاقی اور شفاف طبی عمل کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے
کہا کہ نیا ضابطہ ابھرتے ہوئے اخلاقی چیلنجز کا براہِ راست احاطہ کرتا ہے اور ایسے
قابلِ نفاذ معیارات متعارف کراتا ہے جو پاکستان میں صحت کی فراہمی کو اعلیٰ معیار
تک لے جائیں گے۔
نظرِ ثانی کا ایک نمایاں پہلو معذور افراد کی میڈیکل و ڈینٹل
تعلیم اور پیشہ ورانہ عمل میں شمولیت سے متعلق جامع رہنما اصولوں کا اجرا ہے۔ یہ
اقدامات عالمی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ قرار دیے گئے ہیں جن میں United Nations کے
تحت کنونشن برائے حقوقِ معذوراں، World Health Organization کا عالمی ڈس ایبلٹی ایکشن پلان اور World Federation for
Medical Education کے معیارات شامل ہیں۔
کونسل کے مطابق تعلیم بنیادی حق ہے اور اسے صنف یا جسمانی
معذوری کی بنیاد پر محدود نہیں کیا جا سکتا، بشرطیکہ پیشہ ورانہ اہلیت اور مریضوں
کی حفاظت متاثر نہ ہو۔ نظرِ ثانی شدہ ضابطے کے تحت تسلیم شدہ میڈیکل و ڈینٹل
اداروں میں دو سے پانچ فیصد معذوری کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ داخلہ فنکشنل کیپسٹی
اسیسمنٹ کے ذریعے طے کیا جائے گا جبکہ مروجہ تعلیمی معیار لازمی ہوں گے۔
پریکٹس اور لائسنس کیلئے اہلیت کا انحصار امیدوار کی
.png)
0 Comments