ہیڈ لائنز

مشرقِ وسطیٰ میں دفاعی صف بندی تیز امریکا نے جدید میزائل دفاعی نظام تھاڈ جنوبی کوریا سے اسرائیل منتقل کر دیا

 


 


 

ایران کے ممکنہ میزائل خطرات کے پیش نظر امریکی حکمت عملی میں تبدیلی
خطے میں امریکی اڈوں اور اسرائیل کے دفاع کو مضبوط بنانے کی کوشش

جمعہ، 13 مارچ 2026
رپورٹ جستجو نیوز

امریکا نے اپنے جدید ترین میزائل دفاعی نظام تھاڈ کو مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کے کچھ اہم حصے جنوبی کوریا سے نکال کر اسرائیل اور خطے کے حساس مقامات کی طرف منتقل کر دیے ہیں۔ اس اقدام کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے ممکنہ میزائل خطرات کے تناظر میں ایک اہم دفاعی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون کے مطابق یہ دفاعی نظام اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائل حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے منتقل کیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق تھاڈ نظام جدید ریڈار اور انٹرسیپٹر ٹیکنالوجی کے ذریعے دشمن کے میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نظام کے بعض حصے جنوبی کوریا سے نکال کر مشرقِ وسطیٰ روانہ کیے جا چکے ہیں تاکہ خطے میں دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ اس اقدام کو ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ میزائل حملوں کے خطرات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

یہ دفاعی نظام سن 2017 میں جنوبی کوریا میں نصب کیا گیا تھا تاکہ شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ اس نظام کی تعیناتی اس وقت خطے میں امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدہ تعلقات کے دوران ایک اہم دفاعی قدم سمجھی گئی تھی۔

تاہم اب اس نظام کے کچھ حصوں کی منتقلی کے بعد جنوبی کوریا کے بعض سیاسی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر دفاعی نظام کے عناصر کو خطے سے منتقل کیا جاتا ہے تو اس سے مشرقی ایشیا میں دفاعی توازن متاثر ہو سکتا ہے اور شمالی کوریا کے ممکنہ خطرات کے مقابلے میں جنوبی کوریا کی دفاعی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔

بین الاقوامی دفاعی مبصرین کے مطابق امریکا کی یہ حکمت عملی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ واشنگٹن اس وقت اپنی دفاعی ترجیحات کو مشرقِ وسطیٰ کی طرف منتقل کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکا اپنے اتحادیوں اور فوجی تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دفاعی اقدامات کو مزید تیز کر رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق تھاڈ نظام دنیا کے جدید ترین میزائل دفاعی نظاموں میں شمار ہوتا ہے اور اسے بیلسٹک میزائلوں کو ان کے آخری مرحلے میں فضا ہی میں تباہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے اس کی تعیناتی کو کسی بھی حساس خطے میں ایک بڑی دفاعی پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔

بین الاقوامی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اس دفاعی نظام کی مشرقِ وسطیٰ منتقلی اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے میں عسکری صف بندی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور عالمی طاقتیں ممکنہ خطرات کے پیش نظر اپنی دفاعی حکمت عملیوں کو نئے سرے سے ترتیب دے رہی ہیں۔

 

 

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close