ٹرمپ کا نیا سفارتی اشارہ، آبنائے ہرمز بند ہونے کے باوجود ایران جنگ
ختم کرنے کی آمادگی
واشنگٹن کی حکمت عملی میں لچک، عسکری دباؤ کے ساتھ سفارتی راستہ اپنانے
کا عندیہ
منگل، 31 مارچ 2026
رپورٹ جستجو نیوز
وال
اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے
کے لیے غیر متوقع طور پر لچک کا اشارہ دیا ہے، یہاں تک کہ اگر آبنائے ہرمز بند ہی
کیوں نہ رہے۔
امریکی
حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی معاونین سے کہا ہے کہ وہ
تنازع کو طول دینے کے بجائے جلد ختم کرنے کے خواہاں ہیں۔ ان کے بقول آبنائے ہرمز
کو فوری طور پر کھلوانے کے لیے بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی جنگ کو کئی ہفتوں تک
طول دے سکتی ہے، جو واشنگٹن کی ترجیح نہیں۔
رپورٹ
میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایک متوازن حکمت عملی پر غور کر رہی ہے جس
کے تحت ایران کی بحری اور میزائل صلاحیتوں کو محدود کرنے کے بعد سفارتی دباؤ کے
ذریعے تہران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کیا جائے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو
امریکا اپنے یورپی اور خلیجی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران پر دباؤ بڑھانے کا
ارادہ رکھتا ہے۔
اس
کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ کی جانب سے سخت مؤقف بھی برقرار ہے، جس میں 48 گھنٹوں کے اندر
آبنائے ہرمز نہ کھولنے کی صورت میں ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی
دھمکی شامل ہے۔
تجزیہ
کاروں کے مطابق یہ حکمت عملی ایک جانب کشیدگی کم کرنے کی کوشش ہے تو دوسری جانب
خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کا عندیہ بھی، جس کے اثرات عالمی توانائی
منڈیوں اور سفارتی تعلقات پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
.png)
0 Comments