ایران
کے میزائل حملوں کی درستگی میں اضافہ، بیڈو سیٹلائٹ نظام کے ممکنہ استعمال کا
انکشاف
عالمی دفاعی ماہرین ایرانی عسکری قوت اور جدید
نیویگیشن ٹیکنالوجی کا اعتراف کرتے ہیں
تاریخ
ہفتہ 12 مارچ 2026
جستجو
نیوز عالمی رپورٹس
مشرقِ وسطیٰ میں
حالیہ کشیدگی کے دوران ایرانی میزائل حملوں کی بڑھتی ہوئی درستگی نے عالمی دفاعی
حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔ عرب میڈیا اور بین الاقوامی انٹیلیجنس ماہرین کے مطابق
ایران ممکنہ طور پر چین کے جدید سیٹلائٹ نیویگیشن نظام بیڈو کا استعمال کر رہا ہے،
جس سے اس کے میزائل پہلے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں مقررہ ہدف کو نشانہ
بنا رہے ہیں
فرانس کی سابقہ
خفیہ ایجنسی کے سربراہ الین ژویے نے ایک فرانسیسی پوڈکاسٹ میں کہا کہ حالیہ جنگ کے
دوران ایرانی میزائلوں کی بہتر کارکردگی یہ واضح کرتی ہے کہ ایران کی عسکری قوت نے
جدید ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنا کر عالمی دفاعی ماہرین کے اندازوں سے کہیں آگے قدم
بڑھا دیا ہے
بیڈو نظام، جو
2020ء میں مکمل طور پر فعال ہوا، امریکی جی پی ایس، روسی گلوناس اور یورپی گیلیلیو
کا مؤثر متبادل سمجھا جاتا ہے۔ زیادہ سیٹلائٹس کی موجودگی کی وجہ سے یہ نظام
پوزیشننگ میں اعلیٰ درجہ کی درستگی فراہم کرتا ہے، جبکہ جدید فوجی سگنلز میں اینٹی
اسپوفنگ اور فریکوئنسی ہاپنگ ٹیکنالوجی شامل ہے، جسے تقریباً ناقابلِ جام آلہ قرار
دیا جاتا ہے
رپورٹس کے مطابق
ایران نے باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم دفاعی اور تکنیکی شراکت داری میں اضافہ کرتے
ہوئے چین کے بیڈو نظام کو اپنے فوجی ڈھانچے میں شامل کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق
ایران نے 2015ء میں بیڈو نظام کے ساتھ تربیت اور مشقیں شروع کیں، 2021ء میں
اسٹریٹجک شراکت داری کے بعد خفیہ سگنلز تک محدود رسائی حاصل کی، اور 2025ء تک
مرحلہ وار امریکی جی پی ایس پر انحصار کم کر دیا
ماہرین کا کہنا ہے
کہ پہلے ایرانی میزائل زیادہ تر انرشیل نیویگیشن سسٹم پر منحصر تھے، جس میں وقت کے
ساتھ غلطی بڑھ جاتی تھی۔ بیڈو کے استعمال سے ہدف پر حملے کی درستگی میں نمایاں
اضافہ ہوا، راستہ مسلسل درست رہتا ہے اور سگنل جام کرنے کی کوششیں کم مؤثر ثابت
ہوتی ہیں
یہ پیش رفت عالمی دفاعی تجزیہ کاروں کے لیے ایران کی عسکری صلاحیت اور جدید ٹیکنالوجی اپنانے کی مہارت کا اعتراف ہے، اور اس نے خطے میں اس کی عسکری خودمختاری اور طاقت کی ایک نئی تصویر پیش کر دی ہے
.png)
0 Comments