ہیڈ لائنز

ایران جنگ کی شدت، NATO کا عراق سے انخلا شروع، خطے میں سکیورٹی خدشات بڑھ گئے

 




 
ایران جنگ کی شدت، NATO کا عراق سے انخلا شروع، خطے میں سکیورٹی خدشات بڑھ گئے  
سینکڑوں اہلکار یورپ منتقل، مشن محفوظ مقام پر منتقل، خلیج میں کشیدگی کے بعد اسٹریٹجک فیصلے تیز

جستجو نیوز رپورٹ
تاریخ: 21 مارچ 2026
دن: ہفتہ

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران عالمی فوجی اتحاد NATO نے عراق سے اپنے فوجی اہلکاروں کا مرحلہ وار انخلا شروع کر دیا ہے، جسے خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیٹو کے اعلیٰ کمانڈر General Alexus Grynkewich نے تصدیق کی ہے کہ کئی سو اہلکاروں کو عراق سے نکال کر یورپ منتقل کیا جا چکا ہے۔ یہ اہلکار نیٹو کے سکیورٹی ایڈوائزری مشن کا حصہ تھے، جو 2018 میں عراقی دفاعی اور سکیورٹی اداروں کو مشاورت فراہم کرنے کیلئے قائم کیا گیا تھا۔

کمانڈر کے مطابق عراق میں موجود نیٹو مشن کو ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ اس کی سرگرمیاں Joint Force Command Naples کے تحت جاری رہیں گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تمام اہلکار محفوظ ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عراق میں برطانوی، فرانسیسی اور اطالوی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کی اطلاعات کے بعد سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔ تہران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی فضائی کارروائیوں کے جواب میں خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی رفتار تیز ہوئی ہے۔

مزید برآں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران کے قدرتی گیس فیلڈز کو نقصان پہنچنے کے بعد خلیجی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس نے عالمی توانائی سکیورٹی کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا بھی خطے میں اپنی عسکری موجودگی بڑھاتے ہوئے تقریباً 2,500 اضافی میرینز تعینات کرنے جا رہا ہے، جن کے ساتھ ایک بحری حملہ آور جہاز بھی شامل ہوگا، جو ممکنہ طور پر خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق نیٹو کا یہ انخلا اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے میں صورتحال غیر یقینی اور خطرناک رخ اختیار کر رہی ہے، جہاں ہر قدم عالمی سطح پر بڑے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

تحقیق سے لیکر تصدیق تک جستجو نیوز

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close