تہران کا سخت مؤقف، جنگی نقصانات کے ازالے کو مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ بنا دیا، اقوام متحدہ میں باضابطہ سفارتی اقدام
منگل، 14 اپریل 2026
رپورٹ: جستجو نیوز
مشرق
وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ عسکری
کارروائیوں کے نتیجے میں اسے تقریباً 270 ارب ڈالر کا بھاری مالی نقصان اٹھانا
پڑا، جس کے بعد تہران نے نہ صرف امریکا اور اسرائیل بلکہ خلیجی ممالک سے بھی
ہرجانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ایرانی
حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے روسی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا
کہ یہ تخمینہ براہِ راست اور بالواسطہ نقصانات کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے،
جس میں بنیادی ڈھانچے، معیشت اور دیگر اہم شعبوں کو پہنچنے والے اثرات شامل ہیں۔
ان
کے مطابق جنگی نقصانات کا ازالہ ایران کے لیے ایک مرکزی سفارتی ترجیح بن چکا ہے،
جسے اسلام آباد میں ہونے والے ایران اور امریکا کے حالیہ مذاکرات میں بھی باضابطہ
طور پر اٹھایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہرجانے کا مطالبہ ایران کی پیش کردہ دس
نکاتی شرائط میں شامل ہے۔
دوسری
جانب اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو ارسال
کردہ خط میں خلیجی ممالک، جن میں قطر، سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور
کویت شامل ہیں، سے بھی جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے۔
سفارتی
ذرائع کے مطابق یہ اقدام خطے میں جاری تنازع کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، کیونکہ
اس سے نہ صرف علاقائی تعلقات متاثر ہوں گے بلکہ جاری مذاکراتی عمل پر بھی دباؤ
بڑھے گا۔
ماہرین
کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ مؤقف ایک نئی سفارتی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، جس کے
ذریعے وہ جنگی نقصانات کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کروانے اور مالی ازالہ حاصل
کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ
بھی موجود ہے۔
.png)
0 Comments