ایران مذاکرات میں خیرسگالی کے ساتھ داخل، مگر امریکا پر عدم اعتماد
برقرار
قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ ایرانی وفد پاکستان پہنچ
گیا، ممکنہ معاہدے پر مشروط آمادگی
ہفتہ 11 اپریل 2026
رپورٹ جستجو نیوز
اسلام آباد
علاقائی اور عالمی سفارتکاری کے ایک اہم مرحلے میں ایران
نے مذاکراتی عمل کے لیے اپنی آمادگی کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ
خیرسگالی کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، تاہم امریکا پر اعتماد کا فقدان بدستور
ایک بنیادی رکاوٹ ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف
نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کسی بھی بامعنی پیش رفت کے لیے سنجیدہ ہے، لیکن
ماضی کے تجربات کی روشنی میں امریکا پر اندھا اعتماد ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ
اگر واشنگٹن کی جانب سے ایک حقیقی، قابلِ عمل اور قابلِ بھروسا معاہدہ پیش کیا
جاتا ہے تو تہران مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہوگا۔
اسی تناظر میں ایک اعلیٰ سطحی ایرانی وفد، جس
کی قیادت خود قالیباف کر رہے ہیں، پاکستان پہنچ چکا ہے۔ وفد میں ایرانی وزیر خارجہ
عباس عراقچی، دفاعی کونسل کے سیکرٹری، مرکزی بینک کے گورنر اور پارلیمنٹ کے دیگر
سینئر اراکین شامل ہیں، جو اس دورے کو غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ
تعلقات کے استحکام بلکہ خطے میں جاری کشیدگی اور ممکنہ مفاہمتی راستوں کے تعین کے
لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان، جو خطے میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کرنے
کی صلاحیت رکھتا ہے، اس موقع کو علاقائی استحکام کے لیے ایک مثبت پیش رفت کے طور
پر دیکھ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے نزدیک ایران کا محتاط مگر
لچکدار مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تہران ایک طرف اپنے اصولی موقف پر قائم ہے
تو دوسری جانب سفارتی مواقع کو بھی ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ آنے والے دنوں میں اس
پیش رفت کے خطے کی مجموعی سیاسی حرکیات پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
.png)
0 Comments