اسلام آباد مذاکرات غیر یقینی کا شکار، ایران کا وفد بھیجنے سے گریز
امریکی ناکہ بندی ختم ہونے تک شرکت ممکن نہیں، ایران کا دوٹوک مؤقف،
واشنگٹن کی تیاریاں جاری
اتوار، 19 اپریل 2026ء
رپورٹ جستجو نیوز
تہران
ایران نے اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ متوقع مذاکرات
کے دوسرے مرحلے کے لیے تاحال وفد بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، جس سے مجوزہ
بات چیت کے مستقبل پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق تہران
نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی، اس وقت تک مذاکراتی عمل
میں شرکت ممکن نہیں۔
ایرانی
مؤقف کے مطابق یکطرفہ دباؤ اور پابندیوں کے ماحول میں بامعنی مذاکرات ممکن نہیں
ہوتے، اس لیے پہلے اعتماد سازی کے اقدامات ناگزیر ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ برابری
اور باہمی احترام کے اصولوں کے بغیر کسی بھی مذاکراتی عمل کا نتیجہ مؤثر نہیں ہو
سکتا۔
دوسری
جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے نمائندے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں اور وہ طے
شدہ شیڈول کے مطابق مذاکرات کے لیے تیار ہوں گے۔ انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا
کہ حالیہ کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں فائرنگ کا فیصلہ سیزفائر کی خلاف ورزی
کے مترادف ہے۔
یاد
رہے کہ اس سے قبل امریکی ایڈوانس ٹیم پاکستان پہنچ چکی تھی جبکہ دیگر غیر ملکی
وفود کی آمد بھی جاری رہی، جس سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ
قریب ہے۔ تاہم ایران کے حالیہ مؤقف نے اس عمل کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر
دیا ہے۔
تجزیہ
کاروں کے مطابق ایران کا یہ فیصلہ اس کی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت وہ
دباؤ کے ماحول میں مذاکرات سے گریز کرتے ہوئے پہلے اپنے بنیادی مطالبات منوانا
چاہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکی پابندیوں میں نرمی نہیں آتی تو یہ
مذاکرات مزید تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح
پر بھی محسوس کیے جائیں گے۔

0 Comments