ہیڈ لائنز

امریکہ اور ایران کے درمیان خلیج عمان میں بحری تصادم، کشیدگی ایک بار پھر عروج پر




امریکہ اور ایران کے درمیان خلیج عمان میں بحری تصادم، کشیدگی ایک بار پھر عروج پر

امریکی نیوی کی کارروائی کو ایران نے “مسلح بحری ڈکیتی” قرار دے دیا، فوری ردعمل کا اعلان

پیر، 20 اپریل 2026
رپورٹ: جستجو نیوز

خلیج عمان میں ایک نیا بحری واقعہ عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے ایک بار پھر خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ امریکی بحریہ نے ایرانی پرچم بردار ایک تجارتی کارگو جہاز کو روک کر اس پر کنٹرول حاصل کر لیا، جس پر ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی امریکی بحری ناکہ بندی کے دوران عمل میں آئی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ جہاز پابندیوں کی فہرست میں شامل تھا اور اس کا ماضی مشتبہ سرگرمیوں سے جڑا رہا ہے۔ امریکی صدر Donald Trump کے مطابق جہاز کو خبردار کیا گیا تھا، تاہم ایرانی عملے کی جانب سے ہدایات نظر انداز کیے جانے پر امریکی نیوی نے سخت اقدام اٹھایا اور جہاز کے انجن روم کو نشانہ بنا کر اسے غیر فعال کر دیا۔

امریکی میرینز اس وقت جہاز پر موجود سامان کی تلاشی لے رہے ہیں جبکہ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کا مقصد ممکنہ غیر قانونی نقل و حمل کو روکنا تھا۔

دوسری جانب ایران نے اس واقعے کو شدید اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نہ صرف جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے بلکہ کھلی سمندری راہزنی کے مترادف ہے۔ ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فورسز نے بحیرہ عمان میں فائرنگ کر کے جہاز کے نیویگیشن سسٹم کو ناکارہ بنایا اور زبردستی اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بروقت اور مناسب جواب دیا جائے گا، جس سے خطے میں مزید کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق خلیج عمان اور آبنائے ہرمز پہلے ہی عالمی توانائی سپلائی کے لیے حساس ترین راستے ہیں، اور اس قسم کے واقعات عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ واقعہ ایک بڑے علاقائی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔

  

0 Comments

Type and hit Enter to search

Close