ہیڈ لائنز

ایران جنگ کے اثرات امریکا تک پہنچ گئے، مہنگائی میں تیز ترین اضافہ، معیشت غیر یقینی کی لپیٹ میں

 



ایران جنگ کے اثرات امریکا تک پہنچ گئے، مہنگائی میں تیز ترین اضافہ، معیشت غیر یقینی کی لپیٹ میں
توانائی بحران اور آبنائے ہرمز کی بندش نے قیمتوں کو جھنجھوڑ دیا، صارفین اور کاروبار دونوں دباؤ میں

ہفتہ 11 اپریل 2026
رپورٹ جستجو نیوز

واشنگٹن
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے اثرات اب براہ راست امریکی معیشت پر نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں مارچ کے دوران مہنگائی میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے اقتصادی استحکام پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

امریکی معاشی اعداد و شمار کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس میں ماہانہ بنیاد پر 0.9 فیصد جبکہ سالانہ بنیاد پر 3.3 فیصد اضافہ ہوا، جو تقریباً دو برسوں میں سب سے تیز رفتار اضافہ تصور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین اس اضافے کی بڑی وجہ ایران کے ساتھ کشیدگی اور توانائی سپلائی میں رکاوٹوں کو قرار دے رہے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سب سے زیادہ دباؤ دیکھا گیا، جہاں قیمتوں میں مارچ کے دوران 10.9 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پیٹرول کی قیمتیں 21.2 فیصد تک بڑھ گئیں۔ اسی دوران فضائی کرایوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی ایک بڑی وجہ جیٹ فیول کی ممکنہ قلت اور سپلائی چین میں خلل ہے۔

یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی۔ یہ گزرگاہ دنیا کی توانائی سپلائی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے، جہاں سے عالمی تیل و گیس کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔

اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی اور ایران نے اس دوران آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادگی ظاہر کی، تاہم مارکیٹ میں غیر یقینی برقرار ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق خام تیل کی قیمتیں اب بھی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد زیادہ جبکہ سال کے آغاز کے مقابلے میں 30 فیصد تک بلند ہیں، جو عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ امریکی صارفین اور صنعتوں کے لیے بھی مسلسل دباؤ کا باعث بن رہی ہیں۔

ماہرین معاشیات کے مطابق اگر توانائی سپلائی میں استحکام نہ آیا تو مہنگائی کی یہ نئی لہر نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی اقتصادی نظام کے لیے بھی طویل المدتی چیلنج بن سکتی ہے۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close