ہیڈ لائنز

امریکی مذاکرات، حکمتِ عملی یا محض فیس سیونگ؟


 



 امریکی مذاکرات، حکمتِ عملی یا محض فیس سیونگ؟
آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی معیشت پر دباؤ
مذاکرات کی ناکامی، جنگ کا نیا اور پیچیدہ مرحلہ


امریکا کا ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل بظاہر سفارتی پیش رفت دکھائی دیتا تھا، تاہم زمینی حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ اقدام زیادہ تر داخلی دباؤ کو کم کرنے اور فیس سیونگ کی حکمتِ عملی کا حصہ تھا، امریکی عوام کی جانب سے جنگ مخالف ردعمل، کانگریس کے بڑھتے ہوئے تحفظات اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تیل منڈی میں قیمتوں کے غیر معمولی اضافے نے واشنگٹن کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا،

دوسری جانب امریکا کے اسٹریٹجک عزائم میں کوئی بنیادی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی، ایران کے خلاف جنگی دباؤ برقرار رکھا گیا جبکہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کا دفاع بھی جاری رہا، اسرائیل نے کھل کر مذاکراتی عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور اپنے بیانات کے ذریعے واضح کیا کہ وہ خطے میں اپنے توسیع پسندانہ اہداف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں،

جنگی محاذ پر مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں کی کوشش یہ رہی کہ وہ اپنے ادھورے اہداف کو مذاکراتی عمل کے ذریعے حاصل کریں، تاکہ ایک جانب داخلی سیاسی دباؤ کو کم کیا جاسکے اور دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں استحکام لاکر معاشی بوجھ کو کم کیا جائے، تاہم یہ حکمتِ عملی اس بنیادی سوال کا جواب دینے میں ناکام رہی کہ جو اہداف میدانِ جنگ میں حاصل نہ ہوسکے، وہ سفارتی میز پر کیسے ممکن ہوں گے،

پاکستان نے اس تمام صورتحال میں ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر بھرپور سفارتی کوششیں کیں، مگر امریکا کی پالیسیوں میں عدم سنجیدگی اور نیت کے تضاد کے باعث یہ کوششیں بارآور ثابت نہ ہوسکیں، جس کے نتیجے میں امن مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے،

موجودہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ امریکا اور اسرائیل نہ صرف اپنے جنگی مقاصد میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے بلکہ مذاکرات کی ناکامی نے ان کی سفارتی ساکھ کو بھی مزید نقصان پہنچایا، اب یہ تنازع ایک ایسے مرحلے میں داخل ہورہا ہے جہاں نہ صرف عسکری بلکہ اخلاقی سطح پر بھی پیچیدگیاں بڑھتی دکھائی دیتی ہیں،

اس تمام تر پس منظر میں ایران نے نہ صرف میدانِ جنگ میں اپنی پوزیشن کو مستحکم رکھا بلکہ مذاکراتی عمل میں بھی ایک مضبوط اور باوقار فریق کے طور پر خود کو منوایا، جسے خطے کی بدلتی ہوئی طاقت کی حرکیات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے

  

0 Comments

Type and hit Enter to search

Close