سید سردار علی شاہ کے ریمارکس کو تعلیمی ناانصافی اور
پسماندگی کو جواز دینے کی کوشش قرار، ماہرین کا سخت ردعمل
پیر،
27 اپریل 2026
رپورٹ: جستجو نیوز
کراچی
سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ کے حالیہ بیان نے
نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ سماجی اور عوامی سطح پر بھی شدید ردعمل کو جنم دیا ہے،
جہاں اسے دیہی سندھ کے بچوں کے ساتھ ناانصافی اور جدید تقاضوں سے دور رکھنے کی سوچ
قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر تعلیم کی
جانب سے یہ کہنا کہ دیہی علاقوں کے بچے کا مصنوعی ذہانت سے دور رہنا “اچھا” ہے،
ناقدین کے مطابق ایک خطرناک اور پسماندہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو نہ صرف ڈیجیٹل
تقسیم کو بڑھاوا دیتی ہے بلکہ لاکھوں بچوں کے مستقبل کو بھی محدود کرنے کے مترادف
ہے۔
تعلیمی ماہرین کا
کہنا ہے کہ دنیا جہاں تیزی سے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں اور جدید علوم کی طرف
بڑھ رہی ہے، وہاں ایک صوبائی وزیر کا یہ مؤقف کہ غریب یا دیہی پس منظر رکھنے والا
بچہ ٹیکنالوجی کو فوری طور پر نہ سمجھے تو اسے دور ہی رکھا جائے، دراصل حکومتی ناکامی
پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔
مبصرین کے مطابق
یہ بیان اس حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے کہ سرکاری سطح پر دیہی علاقوں میں جدید
تعلیم، ٹیکنالوجی اور سہولیات کی فراہمی میں سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں، اور اب
اسی کمی کو ایک “قدرتی عمل” یا “بچاؤ” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
سماجی حلقوں نے اس
بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ اگر شہری علاقوں کے بچے اے آئی سیکھ سکتے ہیں تو
دیہی سندھ کے بچوں کو اس سے محروم رکھنے کا جواز کیا ہے؟ کیا یہ طبقاتی تقسیم کو
مزید گہرا کرنے کی پالیسی نہیں؟
ناقدین کا کہنا ہے
کہ بچوں کو فطرت، ثقافت اور زمین سے جوڑنا اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اسے جدید تعلیم
اور ٹیکنالوجی سے دوری کا بہانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ آج کا دور توازن کا تقاضا
کرتا ہے، نہ کہ ایک طبقے کو ترقی سے دور رکھنے کا۔
ماہرین تعلیم نے
حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے بیانات کی وضاحت کرے اور واضح پالیسی پیش
کرے جس کے تحت دیہی اور شہری بچوں کو یکساں تعلیمی مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ
کوئی بھی بچہ صرف اپنے پس منظر کی بنیاد پر مستقبل کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائے۔
یہ معاملہ اب محض
ایک بیان نہیں رہا بلکہ صوبے کے تعلیمی وژن اور پالیسی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان
بن چکا ہے، جس کا جواب دینا حکومت کے لیے ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔

0 Comments