پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری، جنگ بندی، پابندیوں اور نقصانات کے ازالے پر بات چیت، ایران کا اصولی مؤقف برقرار
بدھ، 15 اپریل 2026
رپورٹ: جستجو نیوز
تہران
سے موصول ہونے والی تازہ سفارتی پیش رفت میں ایران نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے
ذریعے امریکا کے ساتھ بالواسطہ رابطوں اور پیغامات کے تبادلے کا عمل تیزی کے ساتھ
جاری ہے، جبکہ اسلام آباد ایک بار پھر اہم مذاکراتی دور کی میزبانی کے لیے زیر غور
ہے۔
ایرانی
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ امریکا کے ساتھ
مذاکرات کا ایک مرحلہ پہلے ہی اسلام آباد میں مکمل ہو چکا ہے، اور ایرانی وفد کی
واپسی کے بعد پاکستان کے ذریعے متعدد سفارتی پیغامات کا تبادلہ کیا گیا۔ ان کے
مطابق آئندہ بدھ کو پاکستان میں ایک اور بامعنی مذاکراتی نشست کے انعقاد کا قوی
امکان ہے۔
ترجمان
کے مطابق حالیہ دنوں میں پیغامات کے اس تسلسل میں جنگ بندی، ایران کو پہنچنے والے
نقصانات کے ازالے اور اقتصادی پابندیوں کے خاتمے جیسے اہم نکات زیر بحث آئے۔ انہوں
نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی ثالثی دونوں ممالک کے درمیان ایک مؤثر سفارتی
چینل کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔
ایران
نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حصول میں دلچسپی
نہیں رکھتا، تاہم اپنے بنیادی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ مزید کہا
گیا کہ خطے میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کیا جائے گا اور قومی
خودمختاری پر کوئی قدغن برداشت نہیں کی جائے گی۔
بیان
میں عندیہ دیا گیا کہ آئندہ مذاکرات بنیادی طور پر جنگ بندی کے فریم ورک کو حتمی
شکل دینے پر مرکوز ہوں گے۔ ایران نے واضح کیا کہ دباؤ یا محاصرے کے ذریعے اسے
جھکانا ممکن نہیں۔
سفارتی
حلقوں کے مطابق پاکستان کی ثالثی نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک سنجیدہ
کوشش ہے بلکہ یہ جنوبی ایشیا کو ایک فعال سفارتی پل کے طور پر بھی اجاگر کر رہی
ہے، جہاں پیچیدہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے نئے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔

0 Comments