امریکا اور چین ایران معاملے پر آمنے سامنے، ناکہ بندی نے عالمی کشیدگی
میں اضافہ کر دیا
بیجنگ کا سخت ردعمل، امریکی اقدام کو خطرناک قرار، جوابی اقتصادی
اقدامات کی وارننگ، سفارتی عمل متاثر ہونے کا خدشہ
منگل، 14 اپریل 2026
رپورٹ: جستجو نیوز
عالمی
سیاست میں ایک نیا تناؤ اس وقت سامنے آیا جب چین اور امریکا ایران کے معاملے پر
براہِ راست اختلاف کی پوزیشن میں آ گئے، جہاں بیجنگ نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی
ناکہ بندی کو نہایت خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ اقدام قرار دیا ہے۔
بیجنگ
میں پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گاؤ جیاکون نے واضح کیا کہ
یہ اقدام نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے بلکہ جاری سفارتی کوششوں اور
ممکنہ جنگ بندی کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات امن کے
امکانات کو کمزور کرتے ہیں اور صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔
یہ
پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے
مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے، جس کے فوراً بعد امریکی ناکہ بندی
نافذ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
چینی
ترجمان نے ان رپورٹس کو بھی مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بیجنگ تہران
کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے جا رہا ہے، اور انہیں بے بنیاد اور قیاس
آرائیوں پر مبنی قرار دیا۔
دوسری
جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے ایران کو عسکری
معاونت فراہم کی تو چینی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں، جن کی
شرح پچاس فیصد تک ہو سکتی ہے۔
چینی
وزارت خارجہ نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے عندیہ دیا کہ اگر امریکا نے یکطرفہ طور
پر اضافی ٹیرف نافذ کیے تو چین بھی بھرپور اور سخت جوابی اقدامات کرے گا، جس سے
تجارتی محاذ پر ایک نئی کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔
بین
الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا، چین اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ
کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی سنگین چیلنج بن سکتی ہے،
جہاں سفارتی تعطل، اقتصادی دباؤ اور عسکری خدشات ایک ساتھ ابھرتے دکھائی دے رہے
ہیں۔
.png)
0 Comments