ہیڈ لائنز

آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی نظام ہل کر رہ گیا، یورپ کو جیٹ فیول کی سنگین کمی کا سامنا

 



آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی نظام ہل کر رہ گیا، یورپ کو جیٹ فیول کی سنگین کمی کا سامنا

ماہرین کی وارننگ، صرف چھ ہفتوں کے ذخائر باقی، پروازوں کی منسوخی اور قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ

جمعہ، 17 اپریل 2026
رپورٹ: جستجو نیوز

یورپ ایک ممکنہ ایندھن بحران کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں تازہ ترین عالمی رپورٹس کے مطابق خطے کے پاس صرف چھ ہفتوں کا جیٹ فیول باقی رہ گیا ہے۔ توانائی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی کی صورتحال جلد معمول پر نہ آئی تو ہوابازی کا شعبہ شدید متاثر ہو سکتا ہے اور بڑے پیمانے پر پروازیں منسوخ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول کے مطابق آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹ نے نہ صرف تیل بلکہ گیس اور بجلی کی عالمی ترسیل کو بھی متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ کئی ممالک اس بحران کی براہ راست زد میں آ چکے ہیں۔

ابتدائی طور پر ایشیائی ممالک پاکستان، بھارت، بنگلا دیش، چین، جاپان اور جنوبی کوریا اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوئے کیونکہ ان کی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ مشرق وسطیٰ سے پورا ہوتا ہے۔ تاہم اب اس بحران کے اثرات یورپ اور امریکا تک پھیل رہے ہیں جس سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یورپ کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی کم از کم نصف توانائی درآمدات کے متبادل ذرائع تلاش کرے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو جون تک جیٹ فیول کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں فضائی سفر شدید متاثر ہوگا اور سیاحت و تجارت کو دھچکا لگ سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق خلیجی ممالک دنیا کو جیٹ فیول کی فراہمی کا مرکزی ذریعہ ہیں جبکہ ایشیا کی بڑی ریفائنریز بھی مشرق وسطیٰ کے خام تیل پر انحصار کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ فوری طور پر عالمی سپلائی چین کو متاثر کرتی ہے۔

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ خلیجی سپلائی بحال ہونے کی صورت میں بھی وقتی ریلیف مل سکتا ہے، تاہم طلب میں اضافے اور رسد میں تاخیر کے باعث قلت کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا۔ خاص طور پر موسم گرما میں سفر کے بڑھتے رجحان کے پیش نظر یورپ کو فوری اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close