واشنگٹن میں اسرائیل لبنان براہ راست مذاکرات کی تیاری، جنگ بندی کی
نئی سفارتی کوشش
امریکا کی ممکنہ ثالثی، شدید حملوں کے بعد عارضی سیز فائر کی اپیل اور
مذاکراتی فریم ورک زیر غور
جمعہ، 10 اپریل 2026
رپورٹ جستجو نیوز
واشنگٹن
/ بیروت / یروشلم
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے لیے براہ راست
مذاکرات کے آغاز کی تصدیق کے بعد سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، اور ابتدائی
اطلاعات کے مطابق پہلا باضابطہ اجلاس واشنگٹن میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔
اسرائیلی
وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون دونوں نے جنگ بندی کے لیے
براہ راست بات چیت شروع ہونے کی تصدیق کی ہے، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب
اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی
میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ مذاکرات کا پہلا اجلاس واشنگٹن میں امریکی محکمہ
خارجہ کے دفتر میں ہوگا، تاہم امریکا اور لبنان کی جانب سے تاحال مذاکرات کی حتمی
تاریخ، شرائط اور طریقہ کار کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
لبنانی
حکام کے مطابق اسرائیل کے ساتھ کسی بھی جنگ بندی معاہدے کے لیے امریکا کی ثالثی
اور سیکیورٹی ضمانت ناگزیر ہوگی، جبکہ اس ممکنہ معاہدے کا ڈھانچہ امریکا اور ایران
کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی حالیہ جنگ بندی سے مماثلت رکھ سکتا ہے۔
رائٹرز
کے مطابق لبنان نے فوری طور پر عارضی جنگ بندی کی اپیل بھی کی ہے تاکہ وسیع تر
مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
دوسری
جانب اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی علاقوں میں شہریوں کو انخلا کی ہدایت جاری کی
ہے، تاکہ وہاں موجود حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا سکے، جس سے
انسانی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔
واضح
رہے کہ حالیہ بدھ کے روز اسرائیل کی جانب سے لبنان پر کیے گئے شدید فضائی حملوں میں
کم از کم 254 افراد جاں بحق جبکہ 1,165 زخمی ہوئے، جس کے بعد عالمی سطح پر فوری
جنگ بندی کے مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔
تجزیہ
کاروں کے مطابق واشنگٹن میں مجوزہ مذاکرات نہ صرف اسرائیل اور لبنان کے تعلقات
بلکہ پورے خطے کے سیکیورٹی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اور یہ دیکھنا
اہم ہوگا کہ آیا یہ سفارتی عمل پائیدار امن کی بنیاد رکھ پاتا ہے یا نہیں۔
.png)
0 Comments