صحافت بمقابلہ ریاست
امریکہ کی داخلی
کشمکش اور آزادی صحافت کا چیلنج
تحریر: عرض محمد سنجرانی
آج
کی دنیا صرف جنگی ہتھیاروں سے نہیں چل رہی بلکہ بیانیوں (narratives)،
معلومات اور میڈیا کے اثر سے تشکیل پا رہی ہے۔ ریاستیں اب صرف سرحدوں کی نہیں بلکہ
رائے عامہ (public opinion) کی جنگ بھی لڑ رہی
ہیں۔ اسی تناظر میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی صرف سفارتی یا دفاعی نہیں
رہی بلکہ اس میں میڈیا، قانون اور سیاسی بیانیہ بھی شامل ہو چکا ہے۔
امریکہ،
جو خود کو آزادی اظہار (freedom of speech) کا سب سے بڑا علمبردار کہتا ہے، اندرونی طور پر ایک ایسے
debate سے گزر رہا ہے جس میں صحافت اور ریاست آمنے سامنے
دکھائی دیتے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق موجودہ امریکی انتظامیہ نے ناقد صحافیوں اور
بعض میڈیا اداروں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا ہے۔ اس میں قانونی مقدمات
(lawsuits)، ادارہ جاتی پابندیاں اور بعض حکومتی دفاتر
تک رسائی محدود کرنے جیسے اقدامات شامل رہے ہیں۔
پینٹاگان
اور دیگر حساس اداروں سے متعلق رپورٹس کی بنیاد پر بعض صحافیوں پر عائد پابندیوں
نے یہ سوال پیدا کیا ہے کہ کیا national security کے نام پر information control جمہوری اصولوں کے خلاف تو نہیں جا رہا؟ صحافتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر
ریاستی فیصلوں پر سوال نہ اٹھایا جا سکے تو accountability کمزور ہو جاتی ہے۔
اسی
دوران امریکی عدلیہ کا کردار ایک اہم balancing factor کے
طور پر سامنے آیا ہے۔ مختلف فیصلوں میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ آئینی حقوق
(constitutional rights)، خصوصاً آزادی
اظہار، کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔ یہ عدالتی رویہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکی
نظام میں طاقت کے اندر بھی checks and balances موجود ہیں، چاہے سیاسی دباؤ کتنا ہی کیوں نہ ہو۔
اب
اگر ہم عالمی سیاست کی طرف دیکھیں تو ایران کا معاملہ اس پورے منظرنامے میں ایک
مرکزی نکتہ بن چکا ہے۔ ایران مسلسل یہ موقف رکھتا ہے کہ اس کا
nuclear program پرامن مقاصد کیلئے ہے، اور اسے اپنی
sovereignty کا حصہ سمجھتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ اور بعض
مغربی طاقتیں ایران پر پابندیوں (sanctions) اور
دباؤ کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہی
وہ جگہ ہے جہاں عالمی سیاست میں double standards کی
بحث جنم لیتی ہے۔ ایک طرف امریکہ خود کو democracy اور human rights کا
محافظ کہتا ہے، لیکن دوسری طرف اس کے داخلی نظام میں بھی media restrictions اور legal pressure کی
بحث جاری رہتی ہے۔ ایران اور اس کے حامی اس تضاد کو اپنے مؤقف کے طور پر پیش کرتے
ہیں کہ عالمی نظام یکساں اصولوں پر نہیں چل رہا۔
یہ
حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ آج کے دور میں جنگیں صرف میدانِ جنگ میں
نہیں ہوتیں بلکہ narrative control کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہیں۔ Social media،
international news agencies اور
political statements اب foreign policy کا حصہ بن چکے ہیں۔
امریکہ
اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں بھی یہی عنصر نمایاں ہے۔ ایک طرف
diplomatic pressure اور economic sanctions ہیں، تو دوسری طرف information warfare اور سیاسی بیانیے کی جنگ ہے۔ ہر فریق اپنی کہانی (story) کو عالمی سطح پر مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
تاہم
اس پورے منظرنامے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا طاقتور ریاستیں واقعی شفافیت
(transparency) کو قبول کرنے کیلئے تیار ہیں، یا پھر
information کو صرف اپنے مفاد کے مطابق استعمال کیا جا
رہا ہے؟
صحافت
کا بنیادی اصول ہمیشہ یہی رہا ہے کہ power سے سوال کیا
جائے۔ اگر یہ سوال محدود ہو جائے تو جمہوریت صرف ایک لفظ رہ جاتی ہے۔ اسی لیے
صحافتی آزادی نہ صرف ایک حق ہے بلکہ ایک global democratic
requirement بھی ہے۔
آخر
میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ امریکہ اور ایران کا موجودہ تناؤ صرف دو ریاستوں کا
معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک بڑے عالمی نظام کی تصویر ہے جہاں power, media اور
politics ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اور اس نظام
میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ حقیقت کس کے پاس ہے، اور بیانیہ کس کے پاس؟
قارئینِ کرام
اس کالم میں پیش کیا گیا تجزیہ اور نقطۂ نظر متعلقہ کالم نگار کی
ذاتی رائے اور فکری زاویہ پر مبنی ہے، جستجو نیوز ادارہ اس میں شامل کسی بھی رائے،
تاثر یا تعبیر سے لازماً اتفاق، تائید یا توثیق نہیں کرتا، یہ مواد صرف معلومات کی
ترسیل اور قارئین کی آگاہی کے لیے شائع کیا جا رہا ہے تاکہ موضوع کے مختلف پہلوؤں
کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔

0 Comments