24 گھنٹوں میں 20 سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے کامیابی سے گزر گئے
متضاد رپورٹس کے باعث عالمی تجارتی راستوں اور خطے کی صورتحال مزید غیر
یقینی
بدھ، 15 اپریل 2026
رپورٹ جستجو نیوز
آبنائے
ہرمز کے حساس آبی راستے میں امریکی ناکہ بندی سے متعلق دعووں کے بعد نئی پیش رفت
نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک امریکی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے
کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 20 سے زائد تجارتی جہاز اس اہم گزرگاہ سے کامیابی کے
ساتھ گزر گئے ہیں، جس سے ناکہ بندی کے دعوؤں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
رپورٹ
میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی
حکام کی جانب سے آبنائے ہرمز پر سخت نگرانی اور کنٹرول کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
اس
سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ابتدائی 24
گھنٹوں کے دوران 6 بحری جہازوں کو واپس موڑ دیا گیا جبکہ کسی ایرانی جہاز کو اس
راستے سے گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
سینٹ
کام کے مطابق آبنائے ہرمز میں نگرانی کے لیے 10 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے
گئے ہیں جن میں سیلرز، میرینز اور ایئر مین شامل ہیں، جو اس اسٹریٹجک آبی راستے پر
مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ پابندیاں خاص طور پر
ایران کی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے جہازوں پر نافذ کی گئی ہیں۔
دوسری
جانب امریکی حکام یہ بھی مؤقف رکھتے ہیں کہ خلیج کے دیگر تمام راستے بین الاقوامی
تجارت کے لیے کھلے ہیں اور ان پر کوئی قدغن نہیں۔
ماہرین
کے مطابق مختلف ذرائع سے آنے والے متضاد دعووں نے صورتحال کو مزید غیر واضح بنا
دیا ہے، جس کے اثرات عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور خطے کے مجموعی سلامتی کے
ڈھانچے پر پڑ سکتے ہیں۔

0 Comments