ایران کا دوٹوک مؤقف، ناانصافی کے آگے جھکنا ممکن نہیں، قومی حقوق پر
کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا
صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ اور ٹرمپ کو سخت جواب، قالیباف نے آبنائے
ہرمز پر امریکی پالیسی کو جاہلانہ قرار دے دیا، جنگ اور مذاکرات دونوں محاذوں پر
ایران کا اعتماد بحال
اتوار، 19 اپریل 2026ء
رپورٹ جستجو نیوز
تہران
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں
کہا ہے کہ کوئی بھی آزاد انسان ناانصافی کے سامنے سر نہیں جھکاتا اور جو قوم یا
فرد اپنے دفاع سے دستبردار ہو جائے وہ عملاً مردہ ہو جاتا ہے۔ ایرانی خبررساں
ادارے ISNA کے مطابق اپنے حالیہ بیان میں
انہوں نے امریکہ خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ
ایران کو اپنے جوہری اور خودمختار حقوق کے استعمال سے روکنے کی بات غیر منطقی اور
غیر قانونی ہے۔
انہوں
نے سوال اٹھایا کہ آخر کس بنیاد پر کسی خودمختار ریاست کو اس کے بنیادی حقوق سے
محروم کیا جا سکتا ہے اور یہ فیصلہ کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے۔ صدر پزشکیان کے
مطابق عالمی طاقتیں اگر انصاف کی بجائے دباؤ کی سیاست اپنائیں گی تو اس سے نہ صرف
خطے بلکہ عالمی امن کو بھی خطرات لاحق ہوں گے۔
دوسری
جانب ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے
امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی کے اعلان کو غیر سنجیدہ اور
جاہلانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل
صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں
نے انکشاف کیا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران مذاکرات میں کچھ پیشرفت ضرور ہوئی تاہم
امریکہ پر اعتماد کا فقدان بدستور موجود ہے اور دونوں فریقین کے درمیان ابھی
نمایاں فاصلہ برقرار ہے۔ قالیباف کے مطابق دشمن کو یہ گمان تھا کہ ایران چند دنوں
میں ہتھیار ڈال دے گا لیکن ایران نے چالیس روز تک مزاحمت جاری رکھ کر یہ تصور غلط
ثابت کر دیا۔
انہوں
نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران ایران نے دشمن کے 170 سے زائد ڈرونز کو نشانہ بنایا
جبکہ جدید ایف 35 طیارے کو ہدف بنانا ایک اہم عسکری پیش رفت تھی۔ ان کے مطابق
امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا اور یہی اس کی عملی شکست کا ثبوت ہے۔
قالیباف
نے خبردار کیا کہ اگر امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی پیش قدمی کی
تو ایران فوری اور فیصلہ کن ردعمل دے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران نے عارضی
جنگ بندی صرف اس لیے قبول کی تاکہ سفارتی عمل کو ایک موقع دیا جا سکے، جبکہ امریکی
قیادت نے جنگ بندی اس وقت تسلیم کی جب میدان جنگ میں ایران کو برتری حاصل ہو چکی
تھی۔
یہ
بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی
سطح پر ایران اور امریکہ کے تعلقات ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں، جہاں ہر فیصلہ نہ
صرف علاقائی بلکہ عالمی اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔

0 Comments