ترک وزیر خارجہ کا سخت ردعمل، اسرائیلی پالیسیوں کو توسیع پسندانہ قرار، علاقائی تصادم کے خدشات میں اضافہ
منگل، 14 اپریل 2026
رپورٹ: جستجو نیوز
مشرق
وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال میں ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تناؤ ایک نئے
مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے
اسرائیلی قیادت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ترکیہ کو ایک نئے دشمن کے طور پر پیش
کرنے کی منظم کوشش کر رہی ہے۔
انقرہ
میں انادولو ایجنسی کے ہیڈکوارٹر میں ایڈیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ہاکان فیدان کا
کہنا تھا کہ اسرائیل کی پالیسی ہمیشہ کسی نہ کسی بیرونی خطرے کو نمایاں کرنے پر
مبنی رہی ہے، اور اب بنجمن نیتن یاہو کی قیادت میں یہ بیانیہ ایران کے بعد ترکیہ
کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔
انہوں
نے آبنائے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس اہم عالمی
گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا مالی پابندی ناقابل قبول ہونی چاہیے، اور بین
الاقوامی برادری کو اس معاملے میں محتاط رویہ اختیار کرنا ہوگا۔
ترک
وزیر خارجہ نے خطے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی کو کم کرنے کے لیے مشترکہ سیکیورٹی
نظام کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ ممالک کے درمیان اعتماد کو فروغ دیا
جا سکے اور ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے۔
لبنان
کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لبنان میں جاری حالات اسرائیل کی
توسیع پسندانہ حکمت عملی کا تسلسل ہیں، جو خطے کو ایک وسیع تر تنازع کی طرف دھکیل
سکتے ہیں۔
یہ
بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رجب طیب ایردوان کی جانب سے اسرائیلی وزیر
اعظم سمیت 35 افراد کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جن پر عالمی
فلوٹیلا کو نشانہ بنانے کی مبینہ کوششوں کا الزام ہے۔
تجزیہ
کاروں کے مطابق حالیہ بیانات اور اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرق
وسطیٰ میں طاقت کے توازن میں تبدیلی آ رہی ہے، جہاں سفارتی محاذ آرائی کسی بھی وقت
وسیع تر جغرافیائی کشیدگی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
.png)
0 Comments