ہیڈ لائنز

پاکستانی معیشت میں تیزی سے بہتری، اہم اشاریے توقعات سے آگے نکل گئے

 



پاکستانی معیشت میں تیزی سے بہتری، اہم اشاریے توقعات سے آگے نکل گئے

زرمبادلہ کے ذخائر جون تک 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع، مہنگائی قابو میں، عالمی اداروں کا اعتماد بحال

اتوار، 19 اپریل 2026ء
رپورٹ جستجو نیوز

واشنگٹن
گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کے اہم معاشی اشاریے مالی سال کے آغاز پر کی گئی توقعات سے کہیں زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے ہیں، جس سے ملکی معیشت میں استحکام اور بحالی کے واضح آثار سامنے آئے ہیں۔

عالمی مالیاتی اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کے دوران انہوں نے بتایا کہ اگرچہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نے نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے، تاہم پاکستان کی معیشت اب ماضی کے مقابلے میں ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔

یہ ملاقاتیں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے موسم بہار اجلاس کے موقع پر ہوئیں، جن میں جے پی مورگن، بارکلیز، سٹی بینک، جیفریز اور فرینکلن ٹیمپلٹن سمیت بڑی عالمی سرمایہ کاری کمپنیوں اور فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی گلوبل جیسی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے شرکت کی۔

گورنر کے مطابق مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 5.7 فیصد رہی جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں رہا اور زرمبادلہ کے ذخائر 16.4 ارب ڈالر تک مستحکم ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی مسلسل خریداری اور سرکاری رقوم کی آمد کے باعث یہ ذخائر جون 2026 تک بڑھ کر تقریباً 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ محتاط مالیاتی اور مانیٹری پالیسی کے باعث نہ صرف مہنگائی کو قابو میں رکھا گیا بلکہ مالیاتی اور بیرونی بفرز کو بھی مضبوط کیا گیا، جس کے نتیجے میں اقتصادی سرگرمیوں میں تدریجی مگر پائیدار بہتری آئی۔ مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی جو گزشتہ سال اسی مدت میں 1.8 فیصد تھی۔

گورنر جمیل احمد کے مطابق موجودہ معاشی بنیادیں 2022 کے عالمی بحرانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہیں، جس سے پاکستان کو عالمی توانائی قیمتوں، فریٹ اور انشورنس لاگت میں اضافے جیسے بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حقیقی پالیسی ریٹ مثبت رکھا گیا ہے، بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا گیا ہے جبکہ ہدفی سبسڈیز اور کفایت شعاری اقدامات بھی نافذ کیے گئے ہیں۔

گورنر نے آئی ایم ایف کے ساتھ جاری پروگرام میں پیش رفت، اسٹاف لیول معاہدے اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے کریڈٹ ریٹنگ کی توثیق کو پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے پر اعتماد کا مظہر قرار دیا۔

انہوں نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے تحت رقوم 12.4 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں اور 9 لاکھ 17 ہزار سے زائد اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں حالیہ اصلاحات، بشمول غیر مقیم اداروں کی شمولیت، پاکستان کو عالمی مالیاتی منڈیوں سے مزید جوڑنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

معاشی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، تاہم علاقائی اور عالمی حالات کے پیش نظر محتاط حکمت عملی کا تسلسل ناگزیر رہے گا۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close