ہیڈ لائنز

مشرق وسطی کی کشیدگی سے عالمی توانائی منڈیاں لرز اٹھیں، خام تیل کی قیمتوں میں تیز چھلانگ

 



مشرق وسطی کی کشیدگی سے عالمی توانائی منڈیاں لرز اٹھیں، خام تیل کی قیمتوں میں تیز چھلانگ

ایرانی جہاز پر امریکی کارروائی اور ممکنہ جوابی ردعمل کے خدشات، سرمایہ کاروں میں بے چینی بڑھ گئی

پیر، 20 اپریل 2026
رپورٹ: جستجو نیوز

مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال نے عالمی توانائی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں ہفتے کے آغاز پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ خطے میں حالیہ بحری کشیدگی اور ممکنہ فوجی ردعمل کے خدشات کے باعث سرمایہ کاروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے تیل کی خریداری میں اضافہ کر دیا۔

عالمی منڈی میں Brent crude oil کی قیمت بڑھ کر تقریباً 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ West Texas Intermediate تقریباً 90 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا دیکھا گیا۔ یہ اضافہ صرف ایک دن میں تقریباً 7 فیصد تک پہنچ گیا، جو مارکیٹ میں شدید بے چینی کی عکاسی کرتا ہے۔

اسی دوران برطانوی خام تیل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا، جہاں تقریباً 5 فیصد اضافے کے ساتھ قیمت 95.51 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ تیزی بنیادی طور پر رسد کے خدشات اور خلیجی آبی راستوں میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث سامنے آئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیج عمان اور آبنائے ہرمز جیسے حساس راستوں میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے اثرات براہ راست توانائی کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔ حالیہ صورتحال میں اگر کشیدگی مزید بڑھی تو نہ صرف تیل بلکہ عالمی معیشت پر بھی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔

ماہرین سرمایہ کاری کے مطابق موجودہ حالات میں مارکیٹ انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ہر نئی خبر قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہے، اور یہی بے یقینی عالمی اقتصادی منظرنامے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہی ہے۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close