ہیڈ لائنز

مشرق وسطیٰ بحران پر سفارتی ہلچل تیز

 




فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے امریکی و ایرانی صدور سے ہنگامی رابطے

جنگ بندی، مذاکرات کی بحالی اور آبنائے ہرمز کھولنے پر عالمی دباؤ میں اضافہ

بدھ، 15 اپریل 2026
رپورٹ جستجو نیوز

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران عالمی سفارتکاری میں اچانک تیزی آ گئی ہے، جہاں فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے قیامِ امن کے لیے متحرک کردار ادا کرتے ہوئے اہم عالمی رہنماؤں سے ہنگامی رابطے شروع کر دیے ہیں۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر میکرون گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مسلسل سفارتی رابطوں میں مصروف رہے اور اسی سلسلے میں انہوں نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزیشکیان سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک گفتگو کی۔

ان رابطوں میں فرانسیسی صدر نے دونوں رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر غلط فہمیاں دور کریں اور مذاکرات کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کریں، کیونکہ ان کے بقول جاری کشیدگی کا واحد پائیدار حل سفارتکاری اور بات چیت ہی ہے۔

صدر میکرون نے مجوزہ دو ہفتے کی جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کرنے کی تجویز دی اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ کسی بھی ممکنہ سیزفائر کی مکمل پاسداری یقینی بنائیں۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس اہم عالمی تجارتی گزرگاہ کو بلا مشروط طور پر فوری کھولا جائے اور جہاز رانی پر کسی قسم کی فیس یا ٹیکس عائد نہ کیا جائے۔

فرانسیسی صدر نے مزید اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی اور عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے برطانیہ کے اشتراک سے جمعے کے روز ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جائے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق فرانس کی جانب سے بڑھتی ہوئی یہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ عالمی طاقتیں خطے میں ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے کے لیے سنجیدہ کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم زمینی حقائق اور جاری کشیدگی اس عمل کو ابھی بھی ایک نازک مرحلے میں رکھے ہوئے ہیں۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close