مذاکرات ہی ایران کے لیے واحد راستہ، ٹرمپ کا سخت اور متنازع بیان
اسلام آباد امن عمل سے قبل امریکی صدر کی دھمکی آمیز
زبان، عسکری طاقت کے استعمال کا عندیہ
ہفتہ 11 اپریل 2026
رپورٹ جستجو نیوز
واشنگٹن
ایران کے ساتھ اسلام آباد میں شروع ہونے والے ممکنہ امن
مذاکرات سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت اور غیر معمولی بیان
دیتے ہوئے سفارتی فضا کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔
اپنے
سوشل میڈیا پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانیوں کے زندہ رہنے کی واحد وجہ
مذاکرات کے لیے ان کی آمادگی ہے، ایک ایسا بیان جسے عالمی سطح پر نہایت سخت اور
متنازع قرار دیا جا رہا ہے۔
انہوں
نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس اس وقت کوئی مضبوط سفارتی یا اسٹریٹجک آپشن
موجود نہیں، سوائے آبنائے ہرمز کے، جہاں سے وہ عالمی سطح پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر
رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو استعمال کرتے ہوئے دنیا
سے “تاوان” لینے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔
اس
سے قبل ایک اور بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکا نے اپنے جنگی جہازوں کو پہلے
سے کہیں زیادہ جدید اور طاقتور ہتھیاروں سے لیس کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ
اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو ان ہتھیاروں کا استعمال “ایسی شدت” سے کیا جائے گا
جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
سفارتی
مبصرین کے مطابق اس نوعیت کے بیانات ایک جانب دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہو سکتے
ہیں، تاہم دوسری جانب یہ جاری مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بھی بنا سکتے ہیں، خصوصاً
ایسے وقت میں جب اسلام آباد میں ممکنہ پیش رفت کو خطے کے امن کے لیے ایک اہم موقع
سمجھا جا رہا ہے۔
.png)

0 Comments