مہنگا ریسکیو آپریشن، امریکی فضائیہ کے جدید طیارے خود ہی تباہ کرنے پڑ
گئے
ایران میں خفیہ مشن ناکام، 200 ملین ڈالر مالیت کے ایم سی 130 جے طیارے
ضائع ہونے کی تفصیلات سامنے آگئیں
پیر، 6 اپریل 2026
رپورٹ: جستجو نیوز
ایران
میں امریکی پائلٹ کے ریسکیو مشن کے دوران پیش آنے والے غیر معمولی واقعے نے عسکری
اور مالی دونوں سطحوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں جدید فوجی طیاروں کی تباہی
نے اس آپریشن کو ایک مہنگی ناکامی میں بدل دیا ہے۔
امریکی
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس خفیہ آپریشن میں استعمال ہونے والے دو MC-130J Commando II طیارے ایک متروک ایئربیس پر لینڈنگ کے دوران زمین میں دھنس گئے، جس کے بعد
انہیں دشمن کے ہاتھ لگنے سے بچانے کے لیے امریکی فوج نے خود ہی تباہ کر دیا۔
United
States Air Force Special Operations Command کے مطابق
ان دونوں طیاروں کی مالیت فی طیارہ 100 ملین ڈالر سے زائد ہے، جس کے باعث مجموعی
نقصان 200 ملین ڈالر تک جا پہنچا، جو اس نوعیت کے مشنز میں ایک غیر معمولی مالی
دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس
کے مطابق یہ طیارے خصوصی طور پر خفیہ اور حساس فوجی آپریشنز کے لیے تیار کیے جاتے
ہیں، جن کا بنیادی مقصد دشمن کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں فوجی دستوں کی خفیہ نقل و
حرکت، دراندازی اور انخلا جیسے اہم مشنز کو انجام دینا ہوتا ہے۔
ان
طیاروں میں جدید سینسرز اور دفاعی نظام نصب ہوتے ہیں، جو انہیں ہیٹ سیکنگ میزائلوں
سمیت مختلف خطرات سے محفوظ رکھنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں، جبکہ یہ کم بلندی پر
پرواز کرتے ہوئے ریڈار سے بچنے کی بھی اہلیت رکھتے ہیں۔
مزید
برآں یہ طیارے دورانِ پرواز ایندھن حاصل کرنے اور دیگر طیاروں و ہیلی کاپٹروں کو
ایندھن فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے ان کی آپریشنل رینج اور مؤثریت میں
نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ
جدید طیارے Lockheed Martin کی
جانب سے تیار کیے گئے ہیں، جن کی پرواز کی رینج تقریباً 3 ہزار میل تک بتائی جاتی
ہے، جبکہ ہر طیارے میں پانچ افراد پر مشتمل عملہ شامل ہوتا ہے، جن میں پائلٹس اور
اسپیشل مشن کے ماہرین شامل ہوتے ہیں۔
ماہرین
کے مطابق اس واقعے نے نہ صرف امریکی فوجی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ یہ
بھی ظاہر کیا ہے کہ انتہائی جدید ٹیکنالوجی کے باوجود زمینی حالات اور غیر متوقع
رکاوٹیں کسی بھی آپریشن کو ناکامی سے دوچار کر سکتی ہیں۔
.png)
0 Comments