اسلام آباد میں سفارتی سرگرمیاں تیز، ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا
مرحلہ قریب
امریکی ایڈوانس ٹیم پاکستان پہنچ گئی، سیکیورٹی ہائی الرٹ، دارالحکومت
اور راولپنڈی میں غیر معمولی انتظامات
اتوار، 19 اپریل 2026ء
رپورٹ جستجو نیوز
اسلام
آباد
ایران اور امریکہ کے درمیان متوقع مذاکرات کے دوسرے
مرحلے سے قبل سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے اور ذرائع کے مطابق امریکی وفد کی
ایڈوانس ٹیم پاکستان پہنچ چکی ہے جبکہ دیگر غیر ملکی وفود کی آمد کا سلسلہ بھی
جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود مذاکراتی عمل
کو آگے بڑھانے کی ایک اہم کوشش قرار دی جا رہی ہے، جہاں ایران اپنے مؤقف پر قائم
رہتے ہوئے برابری کی بنیاد پر بات چیت کو ترجیح دے رہا ہے۔
سفارتی
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے اس مرحلے میں ایران کا مؤقف مرکزی حیثیت اختیار کر
چکا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی سابقہ پالیسیوں کے برعکس اب امریکہ کو بھی لچک دکھانا پڑ
رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق ایران نے حالیہ حالات میں نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی سطح
پر بھی اپنی پوزیشن مستحکم کی ہے جس کے باعث مذاکرات کا توازن تبدیل ہوتا دکھائی
دے رہا ہے۔
دوسری
جانب جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات
کیے گئے ہیں۔ اہم شاہراہوں پر پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی اضافی نفری تعینات کر
دی گئی ہے جبکہ حساس علاقوں میں نگرانی کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
حکام
کے مطابق اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخلہ محدود کر دیا گیا ہے اور کورال سے زیرو
پوائنٹ تک ایکسپریس وے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔ دارالحکومت میں ہیوی ٹریفک
کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ شہریوں کے لیے متبادل ٹریفک پلان
جاری کیا گیا ہے تاکہ روزمرہ زندگی کو کم سے کم متاثر کیا جا سکے۔
ٹریفک
پولیس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ جی فائیو، جی سکس، جی سیون، ایف سکس اور ایف
سیون کے رہائشی راولپنڈی آنے جانے کے لیے مارگلہ روڈ اور نائنتھ ایونیو کا استعمال
کریں۔ ادھر راولپنڈی میں پبلک، گڈز اور بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ تاحکم ثانی معطل کر
دی گئی ہے جبکہ صدر سے فیض آباد تک مری روڈ اور ایکسپریس وے پر اضافی چیک پوسٹس
قائم کر دی گئی ہیں۔
مزید
برآں فیض آباد، پیرودھائی اور 26 نمبر کے بس اڈوں کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ میٹرو
بس سروس جزوی طور پر معطل ہے۔ فیض آباد کے تجارتی مراکز بھی بند کر دیے گئے ہیں جس
سے شہری سرگرمیاں محدود ہو گئی ہیں۔
تجزیہ
کاروں کے مطابق پاکستان میں ہونے والے یہ مذاکرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر
بھی اہمیت کے حامل ہیں، جہاں ایران ایک مضبوط اور خودمختار فریق کے طور پر ابھر
رہا ہے اور کسی بھی معاہدے میں اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھنے کے لیے پرعزم
دکھائی دیتا ہے۔

0 Comments