لبنان سے براہ راست مذاکرات کا اعلان، نیتن یاہو کا نیا سفارتی روڈ میپ
حزب اللہ کی غیر مسلحی ہدف، امریکی دباؤ کے باوجود حملوں میں محدود کمی
اور متضاد اشارے
جمعہ، 10 اپریل 2026
رپورٹ جستجو نیوز
یروشلم
/ بیروت / واشنگٹن
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے لبنان کے ساتھ
براہ راست امن مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل کا بنیادی
مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن کی راہ
ہموار کرنا ہے۔
بین
الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق نیتن یاہو نے کابینہ کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ
لبنان کے ساتھ فوری مذاکرات کے انتظامات کیے جائیں، یہ اقدام لبنانی قیادت کی جانب
سے براہ راست بات چیت کی بارہا درخواستوں کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔
اسرائیلی
وزیراعظم کے مطابق مجوزہ مذاکرات کا محور حزب اللہ کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا
اور سرحدی استحکام کو یقینی بنانا ہوگا، جبکہ انہوں نے لبنانی وزیر اعظم کی جانب
سے بیروت کو غیر مسلح کرنے کی خواہش کو بھی مثبت پیش رفت قرار دیا۔
دوسری
جانب لبنانی صدر جوزف عون نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے لیے
براہ راست مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے، جس سے سفارتی عمل کو عملی شکل ملنے لگی ہے۔
ادھر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ لبنان پر حملوں میں کمی کی
جائے تاکہ ایران کے ساتھ جاری حساس جنگ بندی متاثر نہ ہو۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے
یہ مؤقف حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں نیتن یاہو کے سامنے رکھا۔
امریکی
نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اسرائیل لبنان کے معاملے میں محتاط
رویہ اختیار کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے، تاہم زمینی حقائق اس دعوے سے مکمل مطابقت
نہیں رکھتے۔
گزشتہ
دنوں اسرائیل کی جانب سے لبنان پر شدید فضائی حملوں کے باوجود آج حملوں کی شدت میں
نسبتاً کمی دیکھی گئی، تاہم بمباری کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رکا، جو سفارتی
بیانات اور عملی اقدامات کے درمیان فرق کو ظاہر کرتا ہے۔
واضح
رہے کہ اسرائیل اور امریکا یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں لبنان
شامل نہیں، جبکہ ایران اور پاکستانی ثالث اس کے برعکس لبنان کو معاہدے کا حصہ قرار
دے رہے ہیں، جو اس پورے تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
تجزیہ
کاروں کے مطابق براہ راست مذاکرات کا یہ اعلان ایک اہم پیش رفت ضرور ہے، مگر جب تک
میدان میں جاری عسکری سرگرمیوں اور سفارتی بیانات میں ہم آہنگی پیدا نہیں ہوتی،
خطے میں پائیدار امن کا حصول ایک مشکل مرحلہ ہی رہے گا۔
.png)
0 Comments