واشنگٹن پر تنقید، مذاکراتی حکمت عملی کو ناکام قرار، ٹرمپ انتظامیہ کی ٹیم پر سوالات، عالمی اثر و رسوخ متاثر ہونے کا خدشہ
منگل، 14 اپریل 2026
رپورٹ: جستجو نیوز
امریکا
کی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ناکام سفارتی
کوششوں پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس وقت ایک غیر معمولی
طور پر کمزور پوزیشن میں آ چکا ہے اور اپنی سفارتی برتری کھو بیٹھا ہے۔
ایک
ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں واشنگٹن کو
ایران پر دباؤ ڈالنے کی مضبوط پوزیشن میں ہونا چاہیے تھا، تاہم زمینی حقائق اس کے
برعکس ہیں اور ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکا کی لیوریج کمزور ہو چکی ہے۔
ہیلری
کلنٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ
مذاکراتی عمل میں غیر روایتی شخصیات کی شمولیت نے بھی سوالات کو جنم دیا ہے، جن
میں جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف شامل ہیں۔
ان
کے مطابق موجودہ سفارتی حکمت عملی نہ صرف مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی
بلکہ اس نے عالمی سطح پر امریکا کے اثر و رسوخ کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے اثرات
مستقبل کی خارجہ پالیسی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
بین
الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تعطل خطے
میں غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کر سکتا ہے، جہاں سفارتی ناکامی کسی بھی وقت
نئی کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے، جبکہ عالمی طاقتیں اس تنازع کے اگلے مرحلے پر گہری
نظر رکھے ہوئے ہیں۔

0 Comments