ہیڈ لائنز

ایران کا دعویٰ، امریکی ریسکیو آپریشن ناکام، عالمی میڈیا میں گونج

 



 
ایران کا دعویٰ، امریکی ریسکیو آپریشن ناکام، عالمی میڈیا میں گونج
اصفہان میں مبینہ مشترکہ کارروائی کے دوران امریکی طیارے اور ہیلی کاپٹر تباہ، واشنگٹن کے بیانیے پر سوالات

اتوار، 5 اپریل 2026
رپورٹ جستجو نیوز

تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایران کی قرارگاہ مرکزی حضرت خاتم الانبیاء کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی جنگی طیارے کے پائلٹ کو بچانے کے لیے کیے گئے ریسکیو آپریشن کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب امریکی فضائی ذرائع ملک کے مرکزی علاقوں میں داخل ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ ایک مربوط اور مشترکہ آپریشن تھا جس میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، ایرانی بری افواج، بسیج، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حصہ لیا۔ ایرانی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران دشمن کے متعدد فضائی اثاثے نشانہ بنائے گئے، جن میں ٹرانسپورٹ طیارے اور ہیلی کاپٹر شامل تھے۔

ایرانی ترجمان نے اس واقعے کو ماضی کے ایک بڑے امریکی فوجی ناکام آپریشن سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت ایک بار پھر واشنگٹن کے لیے سفارتی اور عسکری سطح پر دھچکا ہے۔ دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ریسکیو مشن کامیاب رہا، تاہم ایرانی موقف اس کے برعکس ہے، جس کے بعد بیانیوں کا تضاد نمایاں ہو گیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا نے اس دعوے کو نمایاں انداز میں رپورٹ کیا ہے۔ الجزیرہ نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ صوبہ اصفہان میں ریسکیو آپریشن کے دوران امریکی فضائی اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح فلسطین کرانیکل نے رپورٹ کیا کہ ایران نے امریکی کوشش کو ناکام قرار دیا ہے۔

ریپبلک ورلڈ اور ٹی آر ٹی ورلڈ نے مبینہ طور پر تباہ شدہ امریکی ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کی ویڈیوز اور تصاویر نشر کرتے ہوئے اس واقعے کو نمایاں کوریج دی۔ العربی نشریاتی ادارے المیادین نے بھی رپورٹ کیا کہ امریکی ریسکیو مشن کو ایرانی کارروائی کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔

روسی عربی نشریاتی ادارے آر ٹی عربی اور الشرق الاوسط سمیت دیگر علاقائی میڈیا نے بھی ایرانی بیان کو شائع کیا، جس میں کہا گیا کہ امریکی فضائی کوششیں اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس واقعے نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے امکانات کو بڑھا دیا ہے، جبکہ اطلاعات کی متضاد نوعیت کے باعث حقائق کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر اس واقعے کو محتاط انداز میں دیکھا جا رہا ہے، اور آنے والے دنوں میں مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close