ہیڈ لائنز

اسلام آباد مذاکرات میں گہرا فرق، امریکا اور ایران کے مؤقف کئی اہم نکات پر متصادم

 



اسلام آباد مذاکرات میں گہرا فرق، امریکا اور ایران کے مؤقف کئی اہم نکات پر متصادم
جوہری پروگرام، پابندیاں، آبنائے ہرمز اور علاقائی سیکیورٹی پر اختلافات، پاکستان کی ثالثی فیصلہ کن مرحلے میں داخل

ہفتہ 11 اپریل 2026
رپورٹ جستجو نیوز

اسلام آباد
وفاقی دارالحکومت میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری اعلیٰ سطحی مذاکرات ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں امید اور اختلاف دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی یہ بات چیت عارضی جنگ بندی کو مستقل بنانے اور ایک وسیع تر معاہدے کی بنیاد رکھنے کی اہم کوشش تصور کی جا رہی ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات کا ڈھانچہ دونوں ممالک کی الگ الگ تجاویز پر قائم ہے، جہاں ایران نے 10 نکاتی فریم ورک پیش کیا ہے جبکہ امریکا 15 نکات پر مشتمل منصوبہ سامنے لا چکا ہے۔ اگرچہ دونوں فریق مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہیں، تاہم بنیادی نکات پر واضح خلیج اب بھی برقرار ہے۔

جوہری پروگرام سب سے بڑا اختلاف
امریکا ایران سے یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے مکمل طور پر دستبردار رہے اور یورینیم افزودگی کو سخت حدود میں رکھا جائے، ساتھ ہی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی کڑی نگرانی بھی قبول کرے۔ اس کے برعکس ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام کو خودمختاری کا حصہ قرار دیتے ہوئے افزودگی کے حق پر کسی سمجھوتے کو تیار نہیں۔

اقتصادی پابندیاں، فوری یا مرحلہ وار
ایران کا مؤقف ہے کہ اس پر عائد عالمی اقتصادی پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں اور بیرون ملک منجمد اثاثے واپس کیے جائیں۔ دوسری جانب امریکا پابندیوں میں نرمی کو مرحلہ وار اقدامات سے مشروط کر رہا ہے، جس میں ایران کی جانب سے عملی پیش رفت کو بنیادی حیثیت دی جا رہی ہے۔

آبنائے ہرمز، عالمی گزرگاہ یا علاقائی کنٹرول
آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کے درمیان واضح اختلاف موجود ہے۔ ایران اس اہم بحری راستے پر اپنے کردار اور اثر و رسوخ کو تسلیم کروانا چاہتا ہے، جبکہ امریکا اسے مکمل طور پر کھلا اور بین الاقوامی تجارت کے لیے محفوظ رکھنے پر زور دے رہا ہے۔

علاقائی اثر و رسوخ اور سیکیورٹی تنازعات
مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی اور اثر و رسوخ کے معاملات بھی مذاکرات میں نمایاں ہیں۔ امریکا ایران سے بعض مسلح گروہوں کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ ایران خطے میں کشیدگی کم کرنے، فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور امریکی افواج کے انخلا کے ساتھ عدم جارحیت کی ضمانت چاہتا ہے۔

بیلسٹک میزائل پروگرام اور دفاعی خودمختاری
ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام بھی ایک حساس نکتہ ہے، جہاں امریکا ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو محدود دیکھنا چاہتا ہے، جبکہ تہران اسے اپنے دفاع کا بنیادی حق قرار دے کر کسی بھی قسم کی پابندی کو مسترد کر رہا ہے۔

حالیہ کشیدگی اور نقصانات کا ازالہ
28 فروری کے بعد ہونے والی جھڑپوں اور حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور نقصانات کا ازالہ بھی ایجنڈے کا حصہ ہے، جس پر دونوں فریقین کے درمیان موقف میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد میں جاری یہ مذاکرات ایک پیچیدہ سفارتی امتحان ہیں، جہاں کامیابی کے لیے دونوں جانب لچک، اعتماد سازی اور مرحلہ وار پیش رفت ناگزیر ہوگی۔ پاکستان کی ثالثی کو اس پورے عمل میں ایک اہم پل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو اگر کامیاب ہوئی تو خطے میں ایک نئی سفارتی جہت متعارف کرا سکتی ہے۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close