ٹرمپ کا متنازع دعویٰ، ایران کا افزودہ یورینیم امریکا منتقل کرنے کی
بات، عالمی سطح پر سوالات اٹھنے لگے
تہران کا مؤقف برقرار، جوہری پروگرام پرامن مقاصد کیلئے، خودمختاری پر
کسی سمجھوتے کا امکان مسترد
رپورٹ
ہفتہ، 18 اپریل 2026
جستجو نیوز
Donald
Trump نے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ
ایران کے افزودہ یورینیم کو امریکا منتقل کرنے کیلئے دونوں ممالک کے درمیان کسی نہ
کسی سطح پر تعاون کیا جا سکتا ہے، تاہم اس بیان نے عالمی سطح پر نئے سوالات اور
خدشات کو جنم دیا ہے۔
برطانوی
خبر رساں ادارے Reuters کو دیے
گئے انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاملات کو مرحلہ وار
اور محتاط انداز میں آگے بڑھایا جائے گا، جس میں جوہری مواد کو نکالنے اور بعد
ازاں امریکا منتقل کرنے کا عمل بھی شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس عمل کو
"نیوکلیئر ڈسٹ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ باقیات ہیں جو ماضی میں
ہونے والی عسکری کارروائیوں کے بعد بچی ہیں۔
دوسری
جانب ایران مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن
اور شہری ضروریات کیلئے ہے، اور اس حوالے سے کسی بھی بیرونی مداخلت یا یکطرفہ
اقدام کو اپنی خودمختاری کے خلاف تصور کیا جائے گا۔ تہران کے نزدیک جوہری مواد کی
ملک سے منتقلی جیسے اقدامات نہ صرف غیر معمولی ہیں بلکہ بین الاقوامی اصولوں کے
بھی منافی ہو سکتے ہیں۔
ماہرین
کے مطابق ایران کے پاس اس وقت قابلِ ذکر مقدار میں افزودہ یورینیم موجود ہے، تاہم
اسے ہتھیاروں کے درجے تک پہنچانے کے حوالے سے مختلف تکنیکی اور سیاسی عوامل بھی
کارفرما ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں یکطرفہ بیانات کے بجائے شفاف سفارت کاری اور بین
الاقوامی نگرانی کو زیادہ مؤثر راستہ قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر
ٹرمپ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی بڑے مالی
معاہدے پر غور ہو رہا ہے، ان کے مطابق ایسی خبریں بے بنیاد ہیں اور کسی قسم کی
مالی منتقلی زیر بحث نہیں۔
تجزیہ
کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید
بڑھا سکتے ہیں، جبکہ پائیدار حل کیلئے باہمی احترام، خودمختاری کے اصول اور سنجیدہ
سفارتی عمل ناگزیر ہیں۔

0 Comments