آبنائے ہرمز پر کشیدگی عروج پر، عالمی تجارت کو بند کرنے کی وارننگ نے
خطرے کی گھنٹی بجا دی
ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں ایران کا سخت مؤقف، باب المندب تک محاذ
پھیلانے کا عندیہ
پیر، 6 اپریل 2026
رپورٹ: جستجو نیوز
امریکی
صدر Donald Trump کی حالیہ دھمکیوں کے بعد مشرقِ
وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں ایران کی جانب سے
عالمی توانائی سپلائی اور سمندری تجارت کو براہ راست متاثر کرنے کی وارننگ نے بین
الاقوامی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔
ایرانی
قیادت سے قریبی تعلق رکھنے والے سینئر رہنما Ali Akbar Velayati نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا نے مزید جارحیت کا مظاہرہ کیا تو مزاحمتی
اتحاد Strait of Hormuz کی طرز پر
Bab el-Mandeb کو بھی بند کر سکتا ہے، جس سے عالمی
تجارتی راستے اچانک مفلوج ہو سکتے ہیں۔
ادھر
ایران کی عدلیہ نے امریکی بیانات کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ
ایرانی مزاحمت کے باعث Donald Trump بوکھلاہٹ
کا شکار ہو چکے ہیں اور غیر ذمہ دارانہ زبان استعمال کر رہے ہیں۔
ایران
کے نائب صدر Mohammad Reza Aref نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اپنی عوامی فلاح کو نظرانداز کر کے دنیا کو
دھمکانے والی قیادت دراصل ماضی کی ناکام پالیسیوں میں الجھی ہوئی ہے۔
جبکہ
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر Mohammad Bagher Ghalibaf نے خبردار کیا کہ جنگی جرائم کے ذریعے کوئی بھی دیرپا کامیابی حاصل نہیں
کی جا سکتی اور اس طرح کی پالیسیاں پورے خطے کو تباہی کے دہانے پر لے جا رہی ہیں۔
پاکستان
میں موجود ایرانی سفارت خانے نے بھی امریکی صدر کے طرزِ عمل کو غیر متوازن قرار
دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ میں ایرانی مشن
نے عالمی ادارے کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا
ہے۔
یہ
تمام بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب Donald Trump نے
ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے یہاں تک اشارہ
دیا کہ شہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی غیر
معمولی سطح تک پہنچ چکی ہے۔
ماہرین
کے مطابق اگر Strait of Hormuz یا
Bab el-Mandeb جیسے اہم سمندری راستے متاثر ہوئے تو اس
کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور بین
الاقوامی تجارت پر بھی شدید انداز میں مرتب ہوں گے۔
.png)
0 Comments