موساد کا دعویٰ، تہران کے اندر سے حساس معلومات فراہم کر کے اسرائیلی فضائی حملوں کو مؤثر بنایا گیا، جنگ کے بعد بھی خفیہ حکمت عملی فعال
منگل، 14 اپریل 2026
رپورٹ: جستجو نیوز
مشرق
وسطیٰ میں کشیدگی کے تسلسل کے درمیان موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے عندیہ دیا ہے
کہ ایران کے خلاف خفیہ کارروائیوں کا سلسلہ کسی ایک جنگی مرحلے تک محدود نہیں بلکہ
اس کا دائرہ کار طویل المدتی اہداف تک پھیلا ہوا ہے۔
بین
الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بیان ایک یادگاری تقریب کے دوران سامنے آیا،
جہاں موساد چیف نے دعویٰ کیا کہ ان کی ایجنسی نے ایران کے دارالحکومت تہران کے
اندر رہتے ہوئے اہم عسکری تنصیبات کی تفصیلات حاصل کیں اور انہیں اسرائیلی فضائیہ
تک منتقل کیا، جس کے نتیجے میں نشانہ بنائے گئے مقامات پر انتہائی درست حملے ممکن
ہوئے۔
ڈیوڈ
برنیا کے مطابق انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے
والے میزائل پروگرام سے وابستہ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جنہیں اسرائیل کی
سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کیا جا رہا تھا۔
انہوں
نے مزید واضح کیا کہ موساد کی حکمت عملی صرف جنگی کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ
جنگ کے بعد کے مرحلے کے لیے بھی مربوط منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔ ان کے بقول، یہ
ایک مسلسل مہم ہے جو اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران میں مطلوبہ سیاسی تبدیلی
رونما نہیں ہو جاتی۔
تجزیہ
کاروں کے مطابق موساد چیف کا یہ بیان خطے میں جاری خفیہ جنگ کے ایک نئے مرحلے کی
نشاندہی کرتا ہے، جہاں براہ راست عسکری تصادم کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس اور
اسٹریٹجک دباؤ کو بھی کلیدی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
.png)
0 Comments