ہیڈ لائنز

امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی مسترد، ایران کے مؤقف کو عالمی سطح پر تقویت ملنے لگی




امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی مسترد، ایران کے مؤقف کو عالمی سطح پر تقویت ملنے لگی

واشنگٹن کے جنگی بیانیے کے برعکس ایران کا دفاعی حق اور خودمختاری کا اصول مضبوط، سفارتی حل ہی پائیدار راستہ قرار

رپورٹ
ہفتہ، 18 اپریل 2026
جستجو نیوز

علی خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق کسی بھی بیرونی دباؤ یا دھمکی کے باوجود ملک اپنے دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہے۔

حالیہ بیانات میں Donald Trump کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے اور ممکنہ فوجی کارروائی کے عندیے کو خطے میں عدم استحکام کو ہوا دینے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق طاقت کے استعمال کی دھمکیاں نہ صرف سفارتی عمل کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ عالمی امن کیلئے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔

ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے حامی رہے ہیں، تاہم کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دینا ان کا بنیادی حق ہے۔ ایران نے اپنی دفاعی تیاریوں کو خطے میں امن کے توازن کیلئے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی عسکری صلاحیتیں کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے کافی ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر بھی یہ رائے مضبوط ہو رہی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ باہمی احترام، خودمختاری کے اصول اور سنجیدہ سفارتی کوششوں میں پوشیدہ ہے۔ ایران کے حامی حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یکطرفہ دباؤ اور فوجی دھمکیاں مسائل کا حل نہیں بلکہ مزید پیچیدگیوں کو جنم دیتی ہیں، جبکہ مکالمہ اور توازن ہی آگے بڑھنے کا قابل عمل راستہ ہے۔

  

0 Comments

Type and hit Enter to search

Close