ہیڈ لائنز

جنگ بندی کے بعد ایران کا سخت پیغام، قیادت کے قتل کا حساب لینے کا اعلان


 


جنگ بندی کے بعد ایران کا سخت پیغام، قیادت کے قتل کا حساب لینے کا اعلان

نئے سپریم لیڈر کا پہلا تحریری بیان، مزاحمتی محاذ کی وحدت اور اسٹریٹجک ردعمل کا عندیہ

جمعہ، 10 اپریل 2026
رپورٹ جستجو نیوز

تہران
ایران میں جنگ بندی کے بعد نئی قیادت کی جانب سے پہلا باضابطہ ردعمل سامنے آ گیا ہے، جس میں ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل اور جنگ میں ہونے والے جانی نقصان کا حساب ضرور لے گا۔

سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے تحریری بیان میں کہا گیا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم اپنے بنیادی حقوق اور قومی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملک اپنے رہبر اور دیگر شہداء کے خون کا بدلہ لینے کے لیے پُرعزم ہے۔

بیان کے مطابق ایران مزاحمتی محاذ کو ایک متحد قوت تصور کرتا ہے، جس میں اس کے تمام علاقائی اتحادی شامل ہیں، اور آئندہ حکمت عملی اسی اتحاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دی جائے گی۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے آبنائے ہرمز کے انتظام کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرنے کا عندیہ بھی دیا، تاہم اس حوالے سے کسی تفصیلی پالیسی یا اقدامات کا اعلان نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ میں زخمی ہونے والوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا اور ہر شہید کے خون کا حساب لیا جائے گا۔ بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ حالیہ تنازع میں ایران نے برتری حاصل کی اور مخالف قوتوں کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو ہونے والے اسرائیلی حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا تھا، تاہم وہ تاحال عوامی سطح پر منظرعام پر نہیں آئے اور ان کے بیانات تحریری صورت میں جاری کیے جا رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی نئی قیادت کا یہ سخت مؤقف خطے میں طاقت کے توازن، سفارتی عمل اور آئندہ ممکنہ کشیدگی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close