ایرو اسپیس تعاون، ہائی ریزولوشن امیجنگ اور خطے بھر میں حساس تنصیبات
کی نگرانی، چین نے الزامات مسترد کر دیے
بدھ، 15 اپریل 2026
رپورٹ جستجو نیوز
برطانوی
جریدے فنانشل ٹائمز کی ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران
نے جدید چینی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے فوجی اڈوں کی
نگرانی کی اور بعد ازاں انہی معلومات کو ڈرون اور میزائل حملوں کی منصوبہ بندی میں
استعمال کیا۔
رپورٹ
کے مطابق یہ جدید سیٹلائٹ 2024 کے اختتام پر پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس
کو فراہم کیا گیا، جسے چین کی معاونت سے خلا میں لانچ کیا گیا۔ بعد ازاں اس
سیٹلائٹ کا کنٹرول ایرانی حکام کے حوالے کر دیا گیا، جس نے خطے میں انٹیلیجنس
صلاحیتوں کو نمایاں طور پر بڑھایا۔
تحقیقاتی
تفصیلات کے مطابق اس سیٹلائٹ کے ذریعے سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس، اردن
میں موافق السالتی ایئر بیس، بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے اطراف، عراق کے اربیل
ایئرپورٹ، کویت کے فوجی اڈوں، جبوتی میں کیمپ لیمونئیر اور عمان کے دقم ایئرپورٹ
سمیت متعدد حساس مقامات کی مسلسل نگرانی کی گئی۔
رپورٹ
میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اس نگرانی کا دائرہ صرف فوجی تنصیبات تک محدود
نہیں رہا بلکہ خلیجی ممالک کے سویلین انفراسٹرکچر کو بھی مانیٹر کیا گیا، جن میں
خورفکن بندرگاہ، پاور پلانٹس اور صنعتی مراکز شامل ہیں۔
فنی
پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا گیا کہ اس سیٹلائٹ کی ہائی ریزولوشن صلاحیت
تقریباً نصف میٹر تک ہے، جس کے ذریعے اہداف کی انتہائی درست نشاندہی ممکن ہوئی۔ اس
سے قبل ایران کے زیر استعمال “نور 3” سیٹلائٹ اس سطح کی تفصیلی امیجنگ فراہم کرنے
سے قاصر تھا۔
ذرائع
کے مطابق اس مکمل سیٹلائٹ سسٹم، لانچنگ، تکنیکی معاونت اور ڈیٹا انفراسٹرکچر پر
تقریباً 36.6 ملین ڈالر لاگت آئی، جسے ایران کی عسکری انٹیلیجنس صلاحیت میں ایک
بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری
جانب چین نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غیر مصدقہ
معلومات کے پھیلاؤ کی مخالفت کرتا ہے اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے فروغ کے
لیے پرعزم ہے۔
تجزیہ
کاروں کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پیش رفت خطے میں طاقت کے
توازن، انٹیلیجنس وارفیئر اور اسپیس ٹیکنالوجی کے استعمال میں ایک نئے مرحلے کی
نشاندہی کرے گی، جس کے اثرات عالمی سلامتی اور سفارتی تعلقات پر دور رس ہو سکتے
ہیں۔

0 Comments