ہیڈ لائنز

آبنائے ہرمز پر ایران کا نیا فریم ورک، بحری آمدورفت کیلئے سخت شرائط نافذ

 




آبنائے ہرمز پر ایران کا نیا فریم ورک، بحری آمدورفت کیلئے سخت شرائط نافذ

پاسدارانِ انقلاب کی ہدایات، اجازت کے بغیر کوئی جہاز داخل نہیں ہوگا، فوجی جہازوں پر مکمل پابندی برقرار

رپورٹ
ہفتہ، 18 اپریل 2026
جستجو نیوز

ایران نے اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز پر آمدورفت کے حوالے سے ایک نیا کنٹرول فریم ورک متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت تمام بحری جہازوں کیلئے سخت شرائط نافذ کر دی گئی ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے اعلان کے بعد Donald Trump نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا، تاہم اس کے فوری بعد اسلامی انقلابی گارڈ کور نے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ بحری نقل و حرکت اب مکمل طور پر ایرانی نگرانی اور اجازت سے مشروط ہوگی۔

جاری کردہ ہدایات کے مطابق کسی بھی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے پیشگی اجازت حاصل کرنا ہوگی، جبکہ صرف سویلین تجارتی جہازوں کو مخصوص اور متعین کردہ راستوں سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے برعکس فوجی جہازوں کے داخلے پر مکمل پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی فوجی جہاز کی جانب سے اس گزرگاہ میں داخلے کی کوشش کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس پر سخت ردعمل دیا جائے گا۔ بیان کے مطابق یہ اقدامات خطے میں حالیہ جنگ بندی کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں تاکہ میدانِ جنگ میں پیدا ہونے والی نازک صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔

ایرانی حکام پہلے ہی اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کو ایرانی فورسز کی ہدایات کے مطابق چلنا ہوگا، اور صرف انہی بحری راستوں کا استعمال ممکن ہوگا جو ایران کی جانب سے متعین کیے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایران کا یہ اقدام خطے میں بحری سلامتی کے نئے قواعد متعارف کروا رہا ہے، جس کے اثرات عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ سفارتی سطح پر اس کے ردعمل کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا امکان ہے۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close