ہیڈ لائنز

نیتن یاہو کا دعویٰ زیر سوال، اسرائیلی عوام نے جنگی فتح کا بیانیہ مسترد کردیا

 



نیتن یاہو کا دعویٰ زیر سوال، اسرائیلی عوام نے جنگی فتح کا بیانیہ مسترد کردیا
سرویز میں واضح تقسیم، اکثریت ایران جنگ کے نتائج اور جنگ بندی دونوں سے غیر مطمئن

ہفتہ 11 اپریل 2026
رپورٹ جستجو نیوز

تل ابیب
ایران کے خلاف حالیہ جنگ سے متعلق اسرائیلی حکومت کے فتح کے دعوے کو عوامی سطح پر شدید شکوک و شبہات کا سامنا ہے، جہاں مختلف قومی سرویز نے حکومتی مؤقف اور عوامی رائے کے درمیان واضح خلیج کو بے نقاب کردیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے جنگ میں کامیابی کے دعوے کے برعکس، تازہ سرویز کے مطابق اسرائیلی عوام کی اکثریت اس بیانیے سے متفق نہیں۔ شہریوں کی بڑی تعداد نہ صرف اس جنگ کو فیصلہ کن فتح نہیں مانتی بلکہ نئی جنگ بندی کی بھی مخالفت کر رہی ہے۔

اسرائیل کے نجی ٹی وی چینل 13 کے سروے کے مطابق صرف 33 فیصد افراد کا خیال ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف جنگ میں کامیاب ہوئے، جبکہ 28 فیصد شہریوں نے اس کے برعکس ایران کو فاتح قرار دیا۔ اسی طرح چینل 12 کے اعداد و شمار میں بھی صرف 30 فیصد اسرائیلیوں نے کامیابی کے دعوے کی تائید کی، جبکہ کان 11 کے سروے میں یہ شرح مزید کم ہو کر 25 فیصد رہ گئی۔

ان تمام جائزوں میں ایک مشترکہ پہلو یہ سامنے آیا کہ نصف سے زائد اسرائیلی شہری اس نتیجے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ ان کا ملک اور امریکا جنگ میں کامیاب رہے۔ مزید برآں، امریکی حمایت یافتہ ممکنہ جنگ بندی بھی عوامی سطح پر پذیرائی حاصل نہیں کر سکی۔

داخلی سطح پر اسٹریٹجک صورتحال کے حوالے سے بھی رائے منقسم دکھائی دیتی ہے۔ تقریباً 37 فیصد افراد کا ماننا ہے کہ اسرائیل کی پوزیشن میں بہتری آئی، جبکہ 34 فیصد کے مطابق حالات مزید پیچیدہ اور غیر مستحکم ہو گئے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ عوامی ردعمل نہ صرف حکومت کے لیے ایک چیلنج ہے بلکہ آئندہ پالیسی سازی، سیکیورٹی حکمت عملی اور علاقائی سفارتکاری پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، جہاں داخلی اعتماد اور بین الاقوامی بیانیہ دونوں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close