ہیڈ لائنز

دشمن ممالک کے جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز بند کرنے کا عندیہ، پاسدارانِ انقلاب کا سخت سیکیورٹی مؤقف

 



خلیج فارس میں بڑھتی کشیدگی کے دوران نئی بحری پابندیوں، ممکنہ ٹرانزٹ فیس اور اسٹریٹجک

 دباؤ کے اشارے، عالمی تجارت پر اثرات کا خدشہ

بدھ، 15 اپریل 2026
رپورٹ جستجو نیوز

مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ایران کی عسکری قیادت نے آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں نگرانی اور کنٹرول مزید سخت کرنے کا عندیہ دے دیا ہے، جسے علاقائی طاقت کے توازن میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی فوجی کمان کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ایسے تیل بردار یا تجارتی جہاز جو ایران کے بقول “دشمن ممالک” سے منسلک ہوں گے، انہیں اس اہم عالمی آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا اور اس مقصد کے لیے نئے حفاظتی اور انتظامی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کو منظم کرنے کے لیے ایک نیا فریم ورک متعارف کرایا جا رہا ہے، جس میں ممکنہ طور پر ٹول ٹیکس اور ٹرانزٹ چارجز بھی شامل ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام جہازوں کو ایرانی حکام کے ساتھ پیشگی رابطہ اور مکمل ہم آہنگی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ سیکیورٹی خدشات پر قابو پایا جا سکے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کی جانب سے خطے میں دباؤ اور ممکنہ ناکہ بندی کی حکمت عملی کو تقویت دی جا رہی ہے، جس کے باعث سمندری تجارتی سرگرمیوں میں واضح کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

دفاعی اور سفارتی ماہرین کے مطابق ایران اس حساس آبی راستے کو محض سیکیورٹی ہی نہیں بلکہ ایک مؤثر جیو پولیٹیکل آلے کے طور پر بھی استعمال کر رہا ہے، تاکہ عالمی طاقتوں پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ ایرانی قیادت نے اپنے مؤقف کو مزید واضح کرتے ہوئے “سب کے لیے سیکیورٹی یا کسی کے لیے نہیں” کا اصول دہرا دیا ہے، جسے علاقائی پالیسی کا مرکزی نکتہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی لائن کا ایک کلیدی راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی نہ صرف تیل کی ترسیل کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت میں بھی شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close