ہیڈ لائنز

امریکا کی ممکنہ نیٹو سے علیحدگی کے خدشات، یورپ کا نیا دفاعی ڈھانچہ تشکیل دینے کا فیصلہ

 



 

یورپی ممالک میں “یورپی نیٹو” کے تصور پر تیزی سے پیش رفت، فضائی دفاع، انٹیلی جنس اور فوجی کمانڈ میں خود انحصاری کی حکمت عملی

بدھ، 15 اپریل 2026
رپورٹ جستجو نیوز

واشنگٹن سے آنے والی ایک تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے نیٹو سے ممکنہ انخلا کے خدشات نے یورپی ممالک کو اپنے دفاعی مستقبل کے بارے میں غیر معمولی فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے متعدد رکن ممالک اب ایک نئے مشترکہ دفاعی ڈھانچے پر کام کر رہے ہیں جسے غیر رسمی طور پر “یورپی نیٹو” کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ نظام کے تحت یورپ اپنی فوجی کمانڈ، آپریشنل حکمت عملی اور دفاعی ردعمل کے اہم حصے خود سنبھالنے کی تیاری کر رہا ہے، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بیرونی انحصار کم سے کم رکھا جا سکے۔

امریکی میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس پیش رفت کو تیز کرنے میں جرمنی کی دفاعی پالیسی میں نمایاں تبدیلی کلیدی عنصر ثابت ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات، نیٹو سے علیحدگی کے اشارے اور گرین لینڈ سے متعلق متنازع بیانات نے یورپ میں سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران امریکا اور یورپ کے درمیان پالیسی اختلافات نے بھی ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں فاصلے پیدا کیے ہیں، جس کے نتیجے میں یورپی ممالک فضائی دفاع، لاجسٹکس، انٹیلی جنس اور فوجی قیادت جیسے شعبوں میں خود کفالت حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔

اس منصوبے کے تحت بعض ممالک میں لازمی فوجی سروس کی بحالی اور دفاعی صنعت کی توسیع پر بھی غور جاری ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق سب سے بڑا چیلنج امریکا کے فراہم کردہ جوہری تحفظ، سیٹلائٹ نگرانی اور جدید انٹیلی جنس نظام کا متبادل تیار کرنا ہوگا، جو دہائیوں سے مغربی دفاعی ڈھانچے کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فرانس اور جرمنی کے درمیان یورپی جوہری دفاع کے دائرہ کار کو وسعت دینے پر ابتدائی سطح کی بات چیت جاری ہے، جسے اس نئی دفاعی حکمت عملی کا سب سے حساس اور فیصلہ کن پہلو قرار دیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ رجحان اسی رفتار سے جاری رہا تو آنے والے برسوں میں عالمی دفاعی اتحادوں کے نقشے میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں، جس کے اثرات نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا کے سیکیورٹی توازن پر پڑیں گے۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close