ایران جنگ کا فیصلہ پس پردہ حکمت عملی کا نتیجہ، خفیہ بریفنگ نے امریکی پالیسی کا رخ موڑ دیا
اسرائیلی منصوبہ، اتحادی دباؤ اور داخلی اختلافات، ٹرمپ کے فیصلے کے پیچھے پیچیدہ عوامل بے نقاب
بدھ، 8 اپریل 2026
رپورٹ: جستجو نیوز
مشرقِ
وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے جس نے ایران کے
خلاف امریکی جنگی فیصلے کی نوعیت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ باخبر ذرائع اور بین
الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ فیصلہ کسی فوری ردعمل
کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ خفیہ بریفنگز، اتحادی دباؤ اور اندرونی مشاورت کے بعد
تشکیل پایا۔
امریکی
جریدے The New York Times کی رپورٹ کے مطابق
فروری 2026 میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں ایک
تفصیلی خفیہ پریزنٹیشن دی، جس میں ایران کے خلاف ایک بڑے فوجی آپریشن کا خاکہ پیش
کیا گیا۔ اس بریفنگ میں اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ اور اعلیٰ عسکری حکام
بھی شریک تھے۔
رپورٹ
کے مطابق اس منصوبے میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے اور
اس کے میزائل پروگرام کو تباہ کرنے کے ذریعے چند ہفتوں میں فیصلہ کن نتائج حاصل
کیے جا سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس بریفنگ نے صدر ٹرمپ کو خاصا متاثر کیا اور
انہوں نے ابتدائی طور پر اس منصوبے کو مثبت انداز میں لیا۔
اسرائیلی
حکمت عملی چار بنیادی اہداف پر مشتمل تھی جن میں ایرانی قیادت کا خاتمہ، میزائل
نظام کی تباہی، عوامی بغاوت کو ہوا دینا اور بالآخر حکومت کی تبدیلی شامل تھی۔
تاہم بعد ازاں امریکی انٹیلی جنس اداروں نے اس منصوبے کے بعض پہلوؤں پر تحفظات کا
اظہار کیا، خاص طور پر عوامی بغاوت اور ریجیم چینج کے امکانات کو غیر حقیقت
پسندانہ قرار دیا گیا۔
رپورٹ
میں مزید بتایا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے اندر اس معاملے پر شدید اختلافات بھی سامنے
آئے، جہاں بعض اعلیٰ حکام نے اس منصوبے کو خطرناک قرار دیا جبکہ دیگر نے اسے خطے
میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
تجزیہ
کاروں کے مطابق یہ انکشافات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ کا
فیصلہ محض عسکری حکمت عملی نہیں بلکہ سفارتی دباؤ، اتحادی شراکت داری اور داخلی
پالیسی مباحث کا ایک پیچیدہ امتزاج تھا، جس کے اثرات خطے کی سیاست اور عالمی طاقت
کے توازن پر طویل عرصے تک مرتب ہو سکتے ہیں۔
.png)
0 Comments