دو ہفتوں کی جنگبندی یا نئی
جنگ کی تیاری
تجزیاتی تحریر: ابوصفدر سنجرانی
مشرقِ
وسطیٰ کی حالیہ جنگ نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ طاقت صرف ہتھیاروں کی گنتی
سے نہیں بلکہ حکمتِ عملی، عوامی عزم اور سفارتی ساکھ سے بھی ناپی جاتی ہے، ایک ماہ
سے زائد جاری رہنے والی اس کشمکش میں جہاں امریکا اور اسرائیل اپنی عسکری برتری کے
زعم میں میدان میں اترے، وہیں ایران نے صبر، تسلسل اور غیر روایتی حکمتِ عملی کے
ذریعے اس بیانیے کو چیلنج کر دیا،امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیاں ابتدا میں
طاقت کا مظاہرہ ضرور تھیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہی طاقت بے سمت اور بے اثر
دکھائی دینے لگی، اہداف کے حصول میں ناکامی، جنگ کے دائرے کا پھیلاؤ، اور سب سے
بڑھ کر ایران کی جانب سے مسلسل اور مؤثر جوابی حملے، یہ سب اس بات کا ثبوت بن گئے
کہ یہ جنگ یک طرفہ نہیں رہی، تل ابیب سے لے کر حیفہ اور دیمونہ تک، ہر حملہ صرف ایک
عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک پیغام تھا: ایران دفاع تک محدود نہیں، بلکہ جواب دینے
کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے،یہی وہ لمحہ تھا جہاں امریکا کی عسکری برتری کا تصور
دراڑوں کا شکار ہوا، عالمی سطح پر “سپر پاور” کا بیانیہ، جو دہائیوں سے قائم تھا،
اس جنگ میں کمزور پڑتا نظر آیا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے اس کمزوری کو مزید عیاں
کیا، دھمکیوں، ڈیڈ لائنز اور غیر سنجیدہ لب و لہجے نے ایک سنجیدہ بحران کو سفارتی
حکمت کے بجائے نفسیاتی دباؤ کی جنگ بنا دیا، مگر ایران نے نہ صرف یہ دباؤ برداشت کیا
بلکہ اسے الٹا عالمی رائے عامہ میں اپنے حق میں استعمال کیا،ایران کی حکمتِ عملی
اس پورے تنازع میں نمایاں رہی، اس نے براہِ راست محاذ آرائی کے بجائے “کنٹرولڈ اسکیلشن”
یعنی محدود مگر مسلسل دباؤ کی پالیسی اپنائی، آبنائے ہرمز کی بندش اس کی ایک مکمل
اور مؤثر عسکری حکمتِ عملی ثابت ہوئی، جس نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا، تیل کی
قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین کی رکاوٹیں، اور مغربی دنیا میں مہنگائی کا طوفان، یہ
سب ایران کی اس اسٹریٹجک گرفت کا نتیجہ تھے، گویا ایران نے میدانِ جنگ کو صرف
سرحدوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عالمی معیشت تک پھیلا دیا،اس کے برعکس، امریکا
اور اسرائیل کی حکمتِ عملی ردعمل پر مبنی دکھائی دی، نہ واضح اہداف، نہ مربوط
اتحادی، اور نہ ہی کوئی دیرپا منصوبہ، نیٹو کے اتحادیوں کی ہچکچاہٹ، سعودی عرب کا
انکار، اور خلیجی ممالک کی محتاط پالیسی نے امریکا کو عملی طور پر تنہا کر دیا، یہ
تنہائی صرف سفارتی نہیں بلکہ عسکری اور اخلاقی بھی تھی، اور یہی اس جنگ کی سب سے
بڑی ذلت بن کر سامنے آئی،پاکستان کا کردار اس تمام منظرنامے میں نہایت پیچیدہ اور
کسی حد تک کمزور دکھائی دیا، ایک ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود پاکستان کی سفارتی
کوششیں نہ تو بروقت تھیں اور نہ ہی مؤثر، ابتدا میں خاموشی، پھر تاخیر سے آنے والے
بیانات، اور آخرکار ایک غیر محتاط جانبدارنہ بیانات، یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے
ہیں کہ پاکستان واضح پالیسی کے فقدان کا شکار رہا، خلیجی ممالک کے ساتھ معاشی
وابستگیاں اور ایران کے ساتھ جغرافیائی و مذہبی قربت، ان دونوں کے درمیان توازن
قائم کرنے کی کوشش میں پاکستان اپنی سفارتی طاقت کو مؤثر انداز میں استعمال نہ کر
سکا،یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عالمی طاقتیں ایسے مواقع پر درمیانے درجے کے ممالک کو
اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں، اقوامِ متحدہ میں آبنائے ہرمز سے متعلق
قرارداد پر پاکستان کی حمایت اور چین و روس کی مخالفت نے اس تاثر کو مزید تقویت دی
کہ پاکستان شاید ایک بڑے کھیل میں ایک محدود کردار ادا کر رہا ہے، بغیر مکمل فائدہ
حاصل کیے،جنگبندی کا حالیہ مرحلہ بظاہر ایک وقفہ ضرور ہے، مگر اس کے پسِ پردہ
مفادات کی گہری پرتیں چھپی ہوئی ہیں، امریکا کے لیے یہ ایک “عزت بچانے” کی کوشش
ہے، جبکہ ایران اسے مستقل امن کی ضمانتوں سے مشروط کرنا چاہتا ہے، ایران کے ممکنہ
مطالبات، پابندیوں کا خاتمہ، خودمختاری کی ضمانت، اور خطے میں امریکی مداخلت کا
خاتمہ، اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ محض جنگ روکنے نہیں بلکہ طاقت کے توازن کو
ازسرِنو ترتیب دینے کے درپے ہے،حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ نے صرف میزائلوں کا رخ نہیں
بدلا بلکہ عالمی سیاست کے زاویے بھی بدل دیے ہیں، ایران نے ثابت کیا کہ محدود
وسائل کے باوجود مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے بڑی طاقتوں کو روکا جا سکتا ہے، جبکہ
امریکا اور اسرائیل کو یہ احساس دلایا گیا کہ عسکری طاقت کے ساتھ ساتھ سفارتی بصیرت
بھی ضروری ہے، جو اس بار واضح طور پر مفقود رہی، اگر یہی رجحانات جاری رہے تو
مستقبل قریب میں نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر طاقت کا توازن مزید تبدیل ہو سکتا
ہے، اور شاید تاریخ اس جنگ کو ایک ایسے موڑ کے طور پر یاد رکھے جہاں “طاقت” کا
مطلب بدل گیا،اسی تناظر میں ایک نہایت اہم اور چونکا دینے والا پہلو بھی سامنے آتا
ہے، جنگبندی سے قبل امریکا کی جانب سے یہ عندیہ دینا کہ اگر آبنائے ہرمز کھلتا ہے
تو وہاں سے گزرنے والی عالمی تجارت پر “راہداری ٹیکس” وصول کیا جا سکتا ہے، درحقیقت
اس پورے تنازع کے اصل عزائم کو بے نقاب کرتا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ جنگ سلامتی
کے نام پر لڑی جا رہی تھی یا عالمی تجارتی راستوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے؟ اگر
مقصد صرف امن ہوتا تو ٹیکس اور کنٹرول کی بات کیوں کی جاتی؟ مزید یہ کہ خارگ جزیرے
پر زمینی فوج اتارنے کی ممکنہ خواہشات بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتی ہیں،
ایسے میں دو ہفتوں کی عارضی جنگبندی ایک سنجیدہ امن عمل کے بجائے محض ایک “وقفہ”
محسوس ہوتی ہے، ایک ایسا وقفہ جس میں طاقتیں خود کو دوبارہ منظم کر کے اگلے مرحلے
کی تیاری کرتی ہیں، سوال یہ ہے کہ اگر نیت واقعی امن کی ہوتی تو جنگبندی مستقل کیوں
نہ کی جاتی؟ امریکا کا ماضی ایسے تضادات سے بھرا پڑا ہے، قول اور فعل کے درمیان
واضح فرق، مذاکرات کے دوران بھی جارحیت، اور معاہدوں کے بعد بھی وعدہ خلافی، یہ
تمام عوامل ایران کے عدم اعتماد کو تقویت دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایران مستقل اور
قابلِ ضمانت امن کا مطالبہ کر رہا ہے، نہ کہ وقتی خاموشی کا،یہاں ایک اور اہم سوال
بھی ابھر کر سامنے آتا ہے کہ کیا اس بار پاکستان کو ایک بار پھر کسی بڑے کھیل میں
استعمال کیا گیا؟ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اگرچہ کامیابی کے طور پر پیش کیا جا
رہا ہے، مگر اس کامیابی کی اصل بنیاد امریکا کی نیت اور خلوص میں پوشیدہ ہے، اگر یہی
نیت ماضی کی طرح دھوکہ دہی اور وقتی مفادات پر مبنی رہی، تو کیا پاکستان کی دی گئی
کوئی بھی ضمانت مؤثر ثابت ہو سکے گی؟ اگر جنگبندی کو امریکا نے صرف ایک مہلت کے
طور پر استعمال کیا، اور دوبارہ جارحانہ عسکری اقدامات کا آغاز کیا، تو اس کا
براہِ راست اثر نہ صرف خطے بلکہ پاکستان کی ساکھ پر بھی پڑے گا، کیونکہ بطور ثالث یا
سہولت کار، اس کی ذمہ داری اور ساکھ دونوں داؤ پر ہوں گی، یہی وہ بنیادی سوال ہے
جو اس وقت عالمی اور علاقائی حلقوں میں گردش کر رہا ہے، کہ کیا یہ جنگ واقعی ختم
ہوئی ہے، یا صرف اگلے مرحلے کی تیاری جاری ہے؟

0 Comments