روس کا زور، جنگ بندی کو لبنان تک وسعت دی جائے، خطے میں پائیدار امن
کا تقاضا
اسرائیلی حملوں پر تشویش، ایران کی ممکنہ پسپائی کی وارننگ اور سفارتی
دباؤ میں اضافہ
جمعہ، 10 اپریل 2026
رپورٹ جستجو نیوز
ماسکو
/ تہران / بیروت
روس نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کو
ناکافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسے فوری طور پر لبنان تک توسیع دی جائے
تاکہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
روسی
وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ جنگ بندی کو صرف ایران تک محدود
رکھنا خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کافی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ اسے
لبنان میں جاری لڑائی پر بھی لاگو کیا جائے۔
وزارت
خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف
جاری حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کارروائیاں نہ صرف انسانی صورتحال کو
مزید خراب کر رہی ہیں بلکہ جنگ بندی معاہدے کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
دوسری
جانب لبنانی حکومت نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان
جاری مذاکرات میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے تاکہ ایک جامع اور قابلِ عمل معاہدہ
ممکن بنایا جا سکے۔
اسرائیلی
وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے
درمیان ہونے والی جنگ بندی کا احترام کرتی ہے، تاہم لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں،
اس لیے حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ادھر
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں اپنی
عسکری کارروائیاں جاری رکھیں تو ایران امریکا کے ساتھ طے پانے والے جنگ بندی
معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے۔
تجزیہ
کاروں کے مطابق روس کا یہ مطالبہ عالمی سفارتی دباؤ میں اضافے کا عندیہ ہے، جبکہ
لبنان کی شمولیت پر جاری اختلافات اس پورے امن عمل کو پیچیدہ بنا رہے ہیں اور کسی
بھی وقت صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو سکتی ہے۔
.png)
0 Comments