جنگ بندی پر اسرائیلی سیاست میں ہلچل، اپوزیشن کا نیتن یاہو پر سخت وار
یائر
لاپیڈ نے معاہدے کو تاریخی ناکامی قرار دے دیا، حکومت پر داخلی دباؤ میں اضافہ
متوقع
بدھ، 8 اپریل 2026
رپورٹ: جستجو نیوز
اسرائیل
میں حالیہ جنگ بندی معاہدے کے بعد سیاسی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ گیا ہے، جہاں
اپوزیشن نے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی قیادت پر کھل کر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر یائر لاپیڈ نے حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے
موجودہ صورتحال کو ملک کی سیاسی تاریخ کی بدترین ناکامیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔
یائر
لاپیڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ جنگ بندی
معاہدہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ حکمت عملی کے
میدان میں بھی بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ایسے اہم فیصلوں میں اسرائیل
کا مؤثر کردار نہ ہونا قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین اشارہ ہے۔
اپوزیشن
رہنما نے اسرائیلی فوج اور عوام کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ فوج نے اپنی
ذمہ داریاں مکمل پیشہ ورانہ انداز میں نبھائیں جبکہ شہریوں نے غیر معمولی صبر اور
استقامت کا مظاہرہ کیا، تاہم حکومت ان توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی۔
انہوں
نے مزید الزام عائد کیا کہ حکومتی پالیسیوں میں غرور، غفلت اور مؤثر منصوبہ بندی
کی کمی نے اسرائیل کو سیاسی اور اسٹریٹجک سطح پر نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے بقول
وزیرِ اعظم اپنے طے کردہ اہداف میں سے کوئی بھی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
یائر
لاپیڈ نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال کے اثرات طویل المدتی ہو سکتے ہیں اور
اسرائیل کو ان نقصانات کے ازالے میں کئی برس درکار ہوں گے۔ ان بیانات کے بعد ملک
میں ایک نئی سیاسی بحث نے جنم لے لیا ہے جبکہ حکومت پر دباؤ میں مزید اضافے کا
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
.png)
0 Comments