ہیڈ لائنز

ڈالر سے ہٹ کر نئی حکمت عملی، بھارت کی ایران سے تیل خریداری یوآن میں، عالمی مالیاتی رجحان میں تبدیلی کے اشارے

 



ڈالر سے ہٹ کر نئی حکمت عملی، بھارت کی ایران سے تیل خریداری یوآن میں، عالمی مالیاتی رجحان میں تبدیلی کے اشارے

امریکی پابندیوں کے باوجود متبادل ادائیگی نظام فعال، توانائی تجارت میں کرنسی تنوع کا نیا باب کھلنے لگا

رپورٹ
ہفتہ، 18 اپریل 2026
جستجو نیوز

بھارت نے ایران سے خام تیل کی خریداری کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی کرتے ہوئے امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی یوآن میں ادائیگیوں کا آغاز کر دیا ہے، جسے عالمی مالیاتی نظام میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق بھارتی آئل ریفائنریز نے حالیہ عارضی رعایت کے دوران ایرانی تیل کی خریداری کی اور اس کی ادائیگی ممبئی میں قائم ICICI Bank کے ذریعے یوآن میں کی جا رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ لین دین بینک کی شنگھائی برانچ کے ذریعے انجام پا رہا ہے، جہاں سے رقوم ایرانی فروخت کنندگان کو منتقل کی جا رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے روسی اور ایرانی تیل کی خریداری کیلئے محدود مدت کی رعایت دی گئی تھی تاکہ عالمی منڈی میں بڑھتی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔ اس پس منظر میں بھارت نے تقریباً 20 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل کی خریداری کی، جس کی مالیت لگ بھگ 20 کروڑ ڈالر بتائی جا رہی ہے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ Indian Oil Corporation کی جانب سے یہ خریداری گزشتہ کئی برسوں کے وقفے کے بعد کی گئی، جبکہ نجی شعبے کی بڑی ریفائنری Reliance Industries سے وابستہ جہازوں کو بھی ایرانی تیل لے کر بندرگاہوں تک رسائی دی گئی۔

ماہرین کے مطابق امریکی پابندیوں کے باعث ادائیگی کے روایتی نظام میں درپیش مشکلات نے خریدار ممالک کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔ یوآن میں ادائیگی کا یہ ماڈل نہ صرف ان رکاوٹوں کو کم کر سکتا ہے بلکہ عالمی توانائی تجارت میں کرنسی تنوع کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔

تجزیہ کار اس پیش رفت کو ایک وسیع تر رجحان کا حصہ قرار دے رہے ہیں، جہاں بڑی معیشتیں توانائی کے شعبے میں ڈالر پر انحصار کم کرنے اور متبادل مالیاتی نظام کو اپنانے کی جانب بتدریج پیش قدمی کر رہی ہیں، جس کے اثرات مستقبل میں عالمی اقتصادی توازن پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close