مذاکرات کے دوران بھی ٹرمپ کی
گیدڑبھپکیاں جاری تکبرانہ سخت لہجہ برقرار، عسکری طاقت کے استعمال کی کھلی دھمکی
اسلام آباد امن عمل کے دوران امریکی صدر کے بیانات نے
سفارتی ماحول مزید کشیدہ کر دیا
ہفتہ 11 اپریل 2026
رپورٹ جستجو نیوز
واشنگٹن
ایران کے ساتھ جاری حساس مذاکراتی عمل کے دوران امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت اور دھمکی آمیز بیانیہ اختیار کرتے ہوئے ممکنہ
عسکری کارروائی کا واضح عندیہ دے دیا ہے، جس نے سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر
دوڑا دی ہے۔
امریکی
اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اپنے جنگی
بحری بیڑے کو دنیا کے جدید ترین اور طاقتور ہتھیاروں سے لیس کر رہا ہے۔ ان کے
مطابق اگر ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے تو ان ہتھیاروں کا “انتہائی مؤثر”
انداز میں استعمال کیا جائے گا۔
صدر
ٹرمپ نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال آئندہ 24 گھنٹوں میں واضح ہو جائے گی، جس سے
یہ اندازہ لگایا جا سکے گا کہ مذاکرات کسی نتیجے تک پہنچتے ہیں یا نہیں۔
اس
سے قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں انہوں نے ایران کے
اسٹریٹجک آپشنز کو محدود قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تہران کے پاس “کوئی مضبوط
کارڈ” موجود نہیں، سوائے اس کے کہ وہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کے ذریعے دنیا پر
وقتی دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے۔
انہوں
نے مزید الزام عائد کیا کہ ایران عالمی بحری راستوں کو استعمال کرتے ہوئے ایک قسم
کی سفارتی بلیک میلنگ کر رہا ہے، جبکہ ان کے بقول ایران کی موجودہ بقا بھی اسی وجہ
سے ممکن ہے کہ وہ مذاکراتی عمل میں شامل ہے۔
سفارتی
مبصرین کے مطابق ایسے بیانات ایک جانب دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتے
ہیں، تاہم دوسری جانب یہ جاری مذاکرات کو متاثر کرنے اور کشیدگی میں مزید اضافے کا
سبب بھی بن سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطہ پہلے ہی غیر یقینی صورتحال سے
دوچار ہے۔
.png)
0 Comments