ہیڈ لائنز

سپرپاور کو ناکوں چنے چبوائے، ایران روسی حمایت کے ساتھ ڈٹ گیا

 



 

عباس عراقچی کا کہنا ہے ایران نے امریکی دباؤ کا مقابلہ کیا، ولادیمیر پیوٹن کی مکمل حمایت اور تعاون کی یقین دہانی

پیر، 27 اپریل 2026
رپورٹ: جستجو نیوز

ماسکو
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سہہ ملکی دورے کے دوران پاکستان اور عمان کے بعد روس پہنچ گئے جہاں انہوں نے صدر ولادیمیر پیوٹن سے اہم ملاقات کی۔

روسی سرکاری میڈیا کے مطابق اس ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور امریکی ناکہ بندی کے حوالے سے امور زیر بحث آئے۔

صدر پیوٹن نے ایرانی وزیر خارجہ کو مکمل حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ روس ہر ممکن اقدامات کرے گا جو ایران اور خطے کے عوام کے مفاد میں ہوں تاکہ جلد از جلد امن قائم کیا جا سکے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ایرانی عوام ہمت، استقامت اور خودمختاری کے جذبے کے ساتھ اس مشکل دور سے نکل آئیں گے اور ملک میں استحکام کی فضا قائم ہوگی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روسی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور روس کے تعلقات پہلے بھی مضبوط تھے اور موجودہ حالات میں مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے دنیا کو یہ دکھا دیا ہے کہ وہ امریکی حملوں اور دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس مشکل وقت سے بھی کامیابی کے ساتھ نکل آئے گا۔

عباس عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ ایران نے ثابت کیا کہ ایک سپرپاور کو اپنے مقاصد حاصل کرنے سے روکا جا سکتا ہے، اور ایران کے پاس روس جیسے مضبوط دوست اور اتحادی موجود ہیں۔

انہوں نے روس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت پر روس کے مضبوط اور غیر متزلزل مؤقف کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

ملاقات کے دوران صدر پیوٹن نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے انہیں ایک پیغام موصول ہوا ہے، جس پر انہوں نے شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close