ایران کا دوٹوک جواب، افزودہ یورینیم مقدس امانت، کسی صورت بیرونِ ملک
منتقل نہیں ہوگا
ٹرمپ کے دعوے مسترد، تہران نے جوہری خودمختاری پر غیر متزلزل مؤقف دہرا
دیا، کسی معاہدے یا بات چیت کی تردید
رپورٹ
ہفتہ، 18 اپریل 2026
جستجو نیوز
ایران
نے امریکی صدر Donald Trump کے
اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ تہران افزودہ یورینیم امریکا
منتقل کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ ایرانی حکام نے ان بیانات کو حقائق کے منافی قرار
دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے نہ کوئی معاہدہ طے پایا ہے اور نہ ہی ایسی
کوئی بات چیت جاری ہے۔
ایرانی
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ افزودہ یورینیم
ایران کیلئے اپنی سرزمین جتنا مقدس ہے اور اسے کسی بھی صورت ملک سے باہر منتقل
نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق جوہری اثاثوں پر مکمل خودمختاری ایران کا ناقابلِ
تنسیخ حق ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
اسی
مؤقف کی تائید کرتے ہوئے ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی
امریکی دعوؤں کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے کسی مرحلے پر امریکا کو
یورینیم دینے یا اس حوالے سے کسی تجویز پر غور تک نہیں کیا گیا، اور نہ ہی ایسا
کوئی منصوبہ زیر بحث آیا ہے۔
ادھر
ایران نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے حالیہ پیش رفت کو محدود قرار دیتے ہوئے کہا ہے
کہ خطے میں کشیدگی بدستور موجود ہے اور کسی بڑے سفارتی بریک تھرو کی صورتحال ابھی
پیدا نہیں ہوئی۔
تجزیہ
کاروں کے مطابق ایران کا یہ سخت اور واضح مؤقف نہ صرف اس کی جوہری پالیسی کی عکاسی
کرتا ہے بلکہ خطے میں جاری سفارتی کشمکش میں اس کے اسٹریٹیجک اعتماد اور خودمختاری
پر زور کا بھی اظہار ہے۔

0 Comments